اسرائیل نے غزہ کے لوگوں کیلئے زندگی جہنم بنا دی، یو این اور امدادی تنظیموں کا احتجاج
غزہ(صباح نیوز) اقوام متحدہ نے غزہ جنگ کو منقسم انسانیت پر دھبا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رواں برس کے آغاز سے انسانی امداد کی رسائی کے معاملے پر اسرائیلی پابندیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔طے شدہ امداد میں سے اب تک صرف 21 فیصد انسانی امداد غزہ بھیجی جا سکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو بے نقاب کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ غزہ کے لوگوں کیلئے زندگی جہنم بنا دی گئی ہے، یہاں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں، ہر وقت منڈلاتے خطرات کا خوف الفاظ میں بیان کرنے سے باہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے صحت مراکز پر 300 سے زائد حملے کیے گئے اور تاحال امداد کی رسائی کیلئے مشکلات درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت غزہ میں صرف 15 اسپتال کام کر رہے ہیں اور وہاں پر بھی صرف محدود طبی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے افراد کو انتہائی ضروری مدد فراہم کرنے سے بھی روکا جار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور مزید انسانی جانوں کے نقصان کو روکنے کیلئے جو کچھ ممکن ہے وہ کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی تنظیم ریڈ کراس کے سیکرٹری جنرل نے اپنے ایک بیان میں غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے لوگوں نے بہت تکلیفیں دیکھی ہیں۔ ریڈ کراس انٹرنیشنل فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل جگن چیپاگین نے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی بحالی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تنازعہ یا بحران میں صحت کی سہولیات تک رسائی زندگی اور موت کا سوال ہوتا ہے، غزہ میں صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انسانی اور اخلاقی فرض ہے کہ غزہ کے لوگوں کو صحت کی سہولیات تک محفوظ رسائی فراہم کی جائیں۔


