قومی پالیسیوں کی تشکیل میں نگران حکومتوں کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے، بلوچستان لیبرفیڈریشن
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان لیبر فیڈ ریشن کے صدر خان زمان ، چیئرمین حاجی بشیر احمد رند سیکریٹری جنرل قاسم خان سینئر نائب صدر حاجی عبد العزیز شاہوانی اور دیگر رہنماﺅں نے کہا ہے کہ اس جدید دور میں بھی ملک کے غریب عوام بالخصوص محنت کش طبقہ بھوک، افلاس، غربت، جہالت، پسماندگی، کرپشن، لوٹ مار، بدامنی، بد عنوانی تعلیم وصحت کا فقدان، مہنگائی، بے روزگاری، اقربا پروری، تخریب کاری، پیٹرولیم مصنوعات اور خوردنی اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور سب سے بڑھ کر دولت کی غیر منصفانہ تقسیم عمل نے 95 فیصد غریب عوام کو خود کشیاں اور خود سوزیاں کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ غریب عوام ایک وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں۔ دوسری طرف 5 فیصد مراعات یافتہ طبقہ جس سے شامل ہیں دنیا کی تمام آسائشیں میسر خوشحال زندگی گزار اور ورلڈ بنک کے حوالے کر دیا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں اتنی طاقتور ہے کہ ہمارے ہاں حکومتیں بنتی اور بگڑتی مائی نیشنل کمپنیوں کی ایما پر ہیں۔ قومی پالیسیوں کی تشکیل میں نگراں حکومتوں کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ نگراں حکومتوں کا کام صرف انتخابات کی نگرانی حوالے کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے قومی الماثور اثاثوں کو بیچنے کے بجائے ان اداروں میں کو حکومت حوالے کرنا ہے نہ کہ ملک کے قومی اثاثوں کو نجکاری کے ہاتھوں بیچنا قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔ قومی سر نو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے جان بچانے والی 146 دواں کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری و م کو صحت کی سہولتوں سے محروم کرنا ہے۔ پہلے سے ہی غریب عوام آنا، چینی، سبزی ، گوشت ، گھی ، تیل سمیت خوراک کی تمام اشیا آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ۔۔ دوسری طرف نگراں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات اور ادویات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کر کے عام آدمی کو بھوک اور بیماری سے مارنا چاہتی ہیں۔ ملک میں پہلے سے ہی مہنگائی کا طوفان کھڑا ہوا ہے۔ مہنگائی کی شرح 30 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں گیس کی قیمتوں میں 520 فیصد اور بجلی کے ٹیرف میں 70 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ عوام کی قوت خرید جواب دے چکی ہے۔ 25 کروڑ عوام کو ریلیف دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاست نے عوام کو ذہنی مریض بنادیا ہے۔ گیس بجلی ، پٹرولیم مصنوعات ، خوردنی اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور ٹیکسز کی بھر مار نے عوام کا جینا دشوار کر دیا ہے۔ اگر اس ملک کی اشرافیہ نے غریب عوام کو ریلیف نہ دیا تو ملک کو انار کی اور بدامنی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور عوام کو ریلیف دیں تا کہ عوام بھی اپنی زندگی سکون سے گزار سکے۔


