ماہ رنگ تربت دھرنے سے پہلے دبئی گئی اور وہاں بھارتی ایجنٹوں سے کیا ہدایات لائی، جان اچکزئی
کوئٹہ (پ ر) نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے کہا ہے کہ مچ میں سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے نتیجے میں مارے گئے افراد کے لواحقین نے تحریری طور پر تسلیم کیا ہے کہ مچ میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے بی اہل اے کے ارکان تھے اور وہ تخریبی کارروائیوں میں شریک تھے۔ دنیا بھر میں تخریب کاروں کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے نہیں کی جاتیں لیکن ریاست اپنے گمراہ بچوں کا بھی خیال رکھتی ہے۔ گو کہ ورثاءنے یقین دلایا ہے کہ ان کی نماز جنازہ میں کوئی تخریب کار شریک نہیں ہوگا۔ تخریب کار سیکورٹی فورسز کے آپریشن اور ان کی سازشوں کا بھانڈا پھوٹنے سے بوکھلا گئے ہیں ان کے بھارتی آقاﺅں کی جانب سے سازشوں کا جال بے نقاب ہونے سے ان کا خونی کھیل ساری دنیا کے علم میں آچکا ہے۔ اس سارے گندے کھیل کی ماسٹر مائنڈ ماہ رنگ اپنی شرمندگی پر پردہ ڈالنے کے لیے ماورائے عدالت قتل کا الزام گھڑ رہی ہے۔ مچ اور کولپور میں ان کے پی ایل اے کے بھارت نواز ایجنٹوں نے جو آگ اور خون کی ہولی کھیلی تھی وہ ہمیں معلوم ہے کہ بھارت کی ایما پر تخریب کاری ہوئی۔ میں ماہ رنگ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ تربت کے دھرنے سے پہلے وہ دبئی کیوں گئی تھیں اور وہاں را کے ایجنٹوں سے کیا ہدایات لائی تھیں۔


