حب میں طبی سہولیات کا فقدان سرکاری ہسپتال بھوت بنگلے بن گئے
حب(نمائندہ انتخاب)وزیر اعلیٰ کے ہوم ڈسٹرکٹ لسبیلہ کے صنعتی شہر حب میں طبی سہولتوں کا فقدان حب کے دوبڑے سرکاری اسپتال بھوت بنگلے بن گئے آپریشن تھیٹر لیبر روم غیر فعال رات کے اوقات عملہ بھی دستیاب نہیں ہوتا معمولی حادثات کے زخمیوں کے علاج کی بھی کوئی سہولت نہ ہونے کے سبب کراچی ریفر کردیا جاتا ہے،سوشل سیکورٹی اسپتال کے دورے پر آئے صوبائی وزیر لیبر کو بھی اسپتال انتظامیہ نے ماموں بنادیا،جام غلام قادر گورنمنٹ اسپتال میں ایمرجنسی میں بھی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہوتی آئے روز حادثات میں زخمیوں کو لانے والے انکے لواحقین کا احتجاج سامنے آنے کے باوجود صوبائی حکومت کوئی نوٹس لینے سے قاصر ہے قبل ازیں اسپتال کی حالت کو درست کرنے اور انتظامی امور بہتر بنانے کے دعوے کر کے جو انتظامی تبدیلی کی گئی تھی وہ دعوے دھرے کے دھرے ہی رہ گئے سیاسی پسند و ناپسند کے تحت اسپتال انتظامیہ میں تبدیلیوں نے حب کے عوام کی صحت کو داؤ پر لگا دیا وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ہوم ڈسٹرکٹ لسبیلہ کے صنعتی شہر حب میں قائم دو بڑے سرکاری اسپتال جام غلام قادر گورنمنٹ اسپتال اور سوشل سیکورٹی اسپتال جو کہ دونوں 50بیڈ ہیں اور دونوں اسپتالوں میں طبی عملے کی کمی بھی نہیں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کی بڑی تعداد تعینات ہے لیکن دونوں اسپتالوں میں طبی سہولیات کا فقدان ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جام غلام قادر گورنمنٹ اسپتال میں انتظامی تبدیلی کر کے اسپتال کی حالت کو مزید بہتر بنانے اور اچھی طبی سہولیات کی فراہمی کے دروے کئے گئے تھے لیکن مذکورہ انتظامی تبدیلی محض سیاسی پسند وناپسند کی بھینٹ چڑھ گئی اور اسپتال کی حالت پہلے سے بھی ابتر ہو کر رہ گئی ہے اسوقت اسپتال کی حالت زار یہ ہے کہ رات کے وقت کسی حادثے کے زخمیوں کو اسپتال لایا جائے تو نہ عملہ اور ڈاکٹرز ہوتے ہیں اور نہ ہی دیگر ایمرجنسی طبی سہولہات دستیاب ہوتی ہے جبکہ اسپتال میں بجلی اور پانی کا بحران بھی برقرا ر ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں دیگر سہولیات کو درکنار اب ایمرجنسی میں بھی کوئی سہولت نہیں دی جارہی زخمیوں کو صرف کراچی ریفر کرنے کیلئے ریفر لیٹر تھما دیا جاتا ہے اس وقت جام غلام قادر گورنمنٹ اسپتال حب کے آپریشن تھیٹر اور لیبر روم بھی غیر فعال ہونے کی وجہ سے لوگوں کو معمولی آپریشن اور خواتین کو زچگی کیلئے حب اور کراچی کے پرائیوٹ اسپتالوں اور کلینکس کا رخ کرنا پڑتا ہے جہاں پر لوٹ مار کا بازار گرم ہے ایسی ہی صورتحال حب کے صنعتی محنت کشوں کو علاج ومعالجہ کی سہولت کیلئے قائم کئے گئے 50بیڈ سوشل سیکورٹی اسپتال کی ہے جہاں پر کافی عرصہ سے لیبر روم،لیبارٹری،ایکسرے اور آپریشن تھیٹر مکمل طور پر غیر فعال پڑے ہوئے ہیں سوشل سیکورٹی اسپتال کے کراچی کے مختلف اسپتالوں میں کنٹریکٹ ہونے کی وجہ سے اسپتال انتظامیہ ہر مریض کو کراچی اسپتال منتقل کر دیتے ہیں جہاں پر افسران کے کمیشن کے عوض معمولی علاج اور معمولی سستے ٹیسٹ بھی مہنگے داموں کئے جاتے ہیں گزشتہ روز بلوچستان کے صوبائی وزیر لیبر نے اسپتال کا دورہ کیا تو اسپتال انتظامیہ نے سب ٹھیک کا راگ الاپ کر صوبائی وزیر کو ماموں بنا دیا اس موقع پر اسپتال کے اسٹاف نے اسپتال اور اسٹاف کے گھمبیر مسائل سے صوبائی وزیر کو آگاہ کرنے کی کوشش کی لیکن صوبائی وزیر انکی باتیں سنی ان سنی کر کے روزانہ ہو گئے اسپتال اسٹاف کے مطابق اس مرتبہ انہیں تنخواہ کی ادائیگی میں بھی تاخیر کی گئی جبکہ کراچی کے کنٹریکٹ اسپتالوں اور فارمیسی اسٹور ز کے بلز کو پہلے ہی کلیئر کردیا گیا۔


