مخصوص نشستوں کا معاملہ، سنی اتحاد کونسل کی درخواستیں خارج
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)سنی اتحاد کونسل کی جانب درخواست جو کہ مخصوص نشستوں کے بارے میں دائر کی گئی تھی اس پر ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے سماعت کی، خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کی درخواست پرسماعت کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست خارج کردی۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہمارے امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن میں گئے اور الگ الگ نشانات دیئے گئے، تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں آزاد امیدوار کامیاب ہوئے، سنی اتحاد کونسل 78 سیٹوں کی حقدار ہے، ہمارا کیس قومی اسمبلی اور کے پی اسمبلی حد تک محدود ہے، خیبرپختونخوا میں سنی اتحاد کونسل کی 26 مخصوص نشستیں بنتی ہے اور قومی اسمبلی میں کے پی سے 8 بنتی ہی۔جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ آپ قبضے پر زیادہ زور دے رہے ہیں, یہ تو الیکشن کمیشن نے دی ہیں۔یرسٹر ظفر نے کہا کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کو درخواست کی کہ یہ سیٹیں ہمیں دے دیں، جیسے ایک خالی زمین ہو اور کوئی آئے اس پر قبضہ کرلے۔علی ظفر نے دلائل دیے کہ اگر ایک جماعت الیکشن نہ لڑے تو وہ پھر بھی پولیٹیکل پارٹی ہوتی ہے ، یہ ضروری نہیں کہ وہ الیکشن لڑے، سنی اتحاد کونسل کے پاس انتخابی نشان ہے اور الیکشن لڑنے کے لیے اہل ہے، پولیٹکل پارٹی بن جانے سے اس کے پاس باقی حقوق بھی ہیں ، ایک پارٹی جب بن جائے تو وہ الیکشن لڑ بھی سکتی ہے اور بائیکاٹ بھی کر سکتی ہے ، حکومت سازی کرسکتی ہے، یہ وہ تمام حقوق ہیں جو آرٹیکل 17 کے بعد ہمیں حاصل ہیں، چوہدری پرویز الٰہی کیس میں پارلیمانی اور پولیٹیکل پارٹی کی تعریف موجود ہے، باپ پارٹی کو بھی 2018 کے الیکشن میں مخصوص نشستیں دی گئی تھیں۔بعد ازاں تمام وکلاءکے دلائل مکمل ہونے پر پانچ رکنی بینچ نے مشترکہ فیصلہ سناتے ہوئے سنی اتحاد کونسل کی درخواستوں کو خارج کردیا۔


