اڈیالہ جیل میں عمران خان کی سیکورٹی خدشات کے خاتمے تک آن لائن میٹنگ کا حکم
راولپنڈی (انتخاب نیوز) عمران خان کی جیل میں وکلاءسے ملاقات کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا گیا، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عمران خان کی سیکورٹی خدشات کے خاتمے تک آن لائن میٹنگ کا حکم بھی دے دیا گیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے تحریری حکم نامہ جاری کیا جیل حکام کے مطابق سیکورٹی وجوہات کے باعث جیل ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ جیل میں آن لائن میٹنگ کی سہولت موجود نہیں تو بانی پی ٹی آئی کے کوآرڈینیٹر کو بندوبست کرنے کی اجازت دی جائے، آن لائن میٹنگ کی جگہ پر انٹرنیٹ تک رسائی مطلوبہ اسپیڈ اور پرفارمنس اسٹینڈرڈ کے مطابق ہونی چاہیے۔ حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑی تو جس ٹیلی کام کمپنی کا انٹرنیٹ استعمال کیا جا رہا ہے، ا±سے طلب کر کے بیانِ حلفی جمع کرانے کا حکم دیا جائے گا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل کی دلیل میں وزن نہیں کیونکہ سب کو معلوم ہے جیل رولز 1978ءمیں ڈرافٹ کیے گئے تھے 1978ءمیں تب آن لائن ویڈیو میٹنگ کی سہولت موجود ہی نہیں تھی۔ اس کے بعد کسی موقع پر ایسی آن لائن میٹنگ کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی کہ حکومت اس معاملے کو زیرغور لاتی۔ عدالت نے حکم دیاکہ آن لائن میٹنگز کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد کیا جائے، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آن لائن میٹنگ میں سیاسی گفتگو کی جائے گی۔ جس پر عدالت نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ فزیکلی ملاقات کرائی جاتی تو ا±س میں سیاسی گفتگو کے علاوہ کیا گفتگو کی جاتی۔ عدالت نے جیل سپریٹنڈنٹ سے کل 22 مارچ کو عملدرآمد رپورٹ طلب کر لی ہے۔


