سندھ بلوچستان سرحدی پٹی پر ڈکیتی، قتل اور اغوا کی وارداتوں میں اضافہ ، کاروبار میں نمایاں کمی
پنہور سنہڑی (نامہ نگار محمدعلی بمبل)پنہور سنہڑی سے ملحقہ سندھ کی سرحدی پٹی پر بد امنی کی آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا عوام دن کو بھی سفر سے کترانے لگے ، پولیس چوکیوں پر پولیس کی نفری نہ ہونے کے برابر ہے ، عوام میں شدید بے چینی پھیل گئی، عوام دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق پنہور سنہڑی سے ملحقہ سندھ کی سرحدی پٹی میں ڈکیتی قتل اور اغوا کی وارداتیں روز کا معمول بن گئی ہیں ایک ہفتے میں جاوید بگٹی کے قتل علی بخش گھنیو کے اغوا سمیت ڈکیتی کی متعدد وارداتیں ہوچکی ہیں مگر ذمہ داروں کے خلاف تاحال کوئی موثرکارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے جس کی وجہ سے عوام دشمن عناصر کے حوصلے مزید بلند ہو رہے ہیں عوامی حلقوں میں سخت بے چینی پھیلی ہوئی ہے کیونکہ سندھ کے اسی علاقے سے گزر کر بلوچستان کے شہروں پنہور سنہڑی اور گردو نواح کے درجنوں گاو¿ں سعیدآباد تحصیل کی کثیر آبادی سندھ کے شہروں جیکب آباد ٹھل اور کندھکوٹ کاروبار کے سلسلے میں آتے جاتے ہیں ان سنگین وارداتوں کی وجہ کاروبار میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے، سندھ بلوچستان کی سرحدی پٹی کی عوام نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان عناصر کے خلاف فوری آپریشن کرکے ان کا قلعہ قمع کرکے عوام کی بے چینی کو ختم کیا جائے۔


