وزیر اعظم نے کابینہ کی 7کمیٹیوں کی تشکیل دیدی، اقتصادی رابطہ اور برائے توانائی شامل

نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے چیئرمین ہوں گے، اس سے قبل ای سی سی کی سربراہی وزیر خزانہ کرتے تھے، اقتصادی رابطہ کمیٹی اب وزیراعظم، وفاقی وزرا برائے خزانہ، معاشی امور، تجارت، توانائی، پیٹرولیم اور منصوبہ بندی و ترقی پر مشتمل ہے۔ٹرمزائف ریفرنس کے مطابق ای سی سی تمام ہنگامی معاشی معاملات اور حکومت کے مختلف ڈویڑنوں کی طرف سے شروع کی گئی اقتصادی پالیسیوں کی ہم آہنگی پر غور کرے گی، اس کے علاوہ فلاحی ریاست کا درجہ بتدریج حاصل کرنے کے لیے اقدامات کی نشاندہی اور تجویز، مالیاتی صورت حال پر نظر رکھنا، اور قرضوں کے ضابطے کے لیے تجاویز دینا شامل ہے تاکہ پیداوار اور برآمدات کو بڑھایا اور مہنگائی کو روکا جاسکے، زراعت اور صنعتی نمو کے مستقبل کے پیٹرن کا تعین بھی کرے گی اور ملک کی درآمدی پالیسی اور اس کے پیداوار، سرمایہ کاری پر اثرات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔اب کابینہ کمیٹی برائے توانائی وزیر اعظم، وزرا برائے معاشی امور، خزانہ، پیٹرولیم، منصوبہ بندی و ترقی اور توانائی پر مشتمل ہوگی۔اسی طرح ملک کے تین اہم ایئرپورٹس کی آو¿ٹ سورسنگ اور پی آئی اے کی نجکاری کے لیے وفاقی وزیر دفاع اور ہوا بازی خواجہ آصف کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ، کمیٹی ارکان میں وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ اسحق ڈار، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، سیکریٹری نجکاری اور سیکریٹری ہوا بازی ڈویڑن بھی شامل ہیں۔کمیٹی ایئرپورٹ مینجمنٹ کی آو¿ٹ سورسنگ کا جائزہ لے گی اور پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق امور کی نگرانی کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں