کول مائنز میں حادثات کی روک تھام اور تحفظ کیلئے کوئٹہ میں ریلی اور احتجاجی مظاہرہ
کوئٹہ (آن لائن) پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے زیر اہتمام کول مائنز میں حادثات کی روک تھام اور مزدوروں کو تحفظ دینے کیلئے جنرل سلطان محمد خان، مرکزی چیئرمین عبدالستار،سمیت دیگر کی قیادت میں میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے احاطے سے ریلی نکالی اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے۔ اس موقع پر شاہ علی بگٹی، منظور احمد بلوچ، عبدالحلیم خان، سیف اللہ، ساجد کھوکھر، سعید احمد بلانوشی، سعید احمد قلندرانی سمیت دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 20 مارچ کو ہرنائی زرد آلو مائنز میں خطرناک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 12 ورکرز شہید جبکہ 6 شدید زخمی ہوئے یہ پہلا اور آخری واقعہ نہیں بلکہ تواتر کے ساتھ ہرنائی، دکی ، چمالنگ، سورنج، مارواڑ، ڈیگاری، مچھ و دیگر علاقوں میں حادثات رونما ہوتے ہیں جس سے ہر سال سینکڑوں مائنز ورکر شہید اور زخمی ہوتے ہیں پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال 300 کے قریب ورکرزجاں بحق ہوجاتے ہیں۔جبکہ گزشتہ برسوں 2011ءمیں سورینج میں 43ورکر 2018ءمیں مائنز حادثے میں 18ورکرز جاں بحق ہوئے۔ حادثات مائنز مالکان کی غفلت، ٹھیکیداری نظام، مائنز ڈیپارٹمنٹ کی ناقص کارکردگی اور کمپنیوں کا خود کام نہ کرنا اور ٹھیکیداروں اور پٹی ٹھیکیداروں کے کام کرنے کی وجہ سے ہوتے ہےں۔ مائنز میں بارود کا استعمال ممنوع ہے لیکن اب اکثر مائنز میں بارود استعمال ہوتا ہے جس سے دھماکے ہوتے ہیں مائنز میں بارود پر مکمل پابندی لگائی جائے اور بارود استعمال کرنے میں سخت سے سخت سزائیں دی جائے۔اور کمپنیاں ای او بی آئی اور ڈبلیو ڈبلیو بی کے ٹیکسزادا کریں جبکہ مائنز کمپنیوں ٹیکسز نہیں دیتی چند کمپنیاں ٹیکسز دے رہی ہے اور وہ بھی بہت کم ہے اس طرح ڈبلیو ڈبلیو ایف کو 2 فیصد ٹیکس نہیں دے رہے جس کی وجہ سے سہولیات سے محروم ہیں مقررین نے کہا کہ مائنز میں حادثات کے ذمہ داران کو سزائیں دی جائیں مائنز ورکروں کو تحفظ ، آئی ایل او کنونشن 176 کو تسلیم کیا جائے۔ صحت و سلامتی کے قوانین پر عملدرآمد کیا جائے اور شاہرگ مائنز میں شہید اور خمی ہونے والے ورکروں کو خصوصی گرانٹ منظور کی جائے۔ مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔


