پاکستان فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے، اسحاق ڈار
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے او آئی سی کے مشترکہ اقدام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا کا اظہار دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، تشدد اور اشتعال انگیزی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے ہوتا ہے۔ گیمبیا کے دارالحکومت بنجول میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے 15ویں سربراہ اجلاس کی تیاری کے سلسلے میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بحران کا واحد مستقل حل ایک محفوظ، قابل عمل، متصل اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام میں مضمر ہے جو جون 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل دشمنی کے خاتمے کے لیے اپنی قرارداد 2728 پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ انہوں نے دو ریاستی حل کے حصول کو محفوظ بنانے کے لیے ایک جامع، شفاف اور ناقابل واپسی امن عمل کا جلد از جلد دوبارہ آغاز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت پر او آئی سی کی وزارتی کمیٹی کو دوبارہ فعال ہونا چاہیے۔ انہوں نے اسرائیل کی طرف سے طاقت کے اندھا دھند استعمال اور غزہ کے غیر انسانی محاصرے کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔


