ڈی ایچ او کیچ کی ڈی جی ہیلتھ سے ملاقات، ڈینگی کے پھیلاؤ پر تبادلہ خیال

تربت (نمائندہ انتخاب ) ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر ابابگر بلوچ نے کوئٹہ میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بلوچستان ڈاکٹر فاروق ہوت اور ڈائریکٹر ملیریا ڈاکٹر عبدالرحیم بگٹی سے ضلع کیچ میں ڈینگی کی صورتحال پر مفصل ملاقات کی ، ضلع کیچ میں ڈینگی کی بڑھتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ابابگر بلوچ نے ڈی جی صحت بلوچستان ڈاکٹر فاروق ہوت اور ڈائریکٹر ملیریا ڈاکٹر عبدالرحیم بگٹی سے کوئٹہ میں ایک تفصیلی ملاقات کی، ڈاکٹر ابابگر بلوچ نے اس ملاقات میں 2019ءسے ضلع کیچ میں ہر سال رپورٹ ہونے والے ڈینگی کے کیسز کا ذکر کیا، جن کا بنیادی سبب گھروں میں موجود کھلے پانی کی ٹینکیاں اور لوگوں میں ڈینگی سے متعلق کم آگاہی ودیگر وجوہات بتائی گئیں،ڈی ایچ او کیچ نے زور دیا کہ ڈینگی کی وبا کو قابو پانے کے لئے جامع اور مستقل حل کی اشد ضرورت ہے،انہوں نے بتایا کہ عوامی آگاہی کے پروگراموں کی مدد سے لوگوں کو ان کے گھروں میں پانی کو کھلا نہ چھوڑنے کی تلقین کی جا رہی ہے، ڈاکٹر ابابگر بلوچ نے مزید کہا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ، پانی کے متاثرہ پائپوں سے پانی کا رساؤ، میونسپل کمیٹی کے محدود وسائل، انسداد ڈینگی کے قوانین کی عدم موجودگی اور ایمرجنسی صورتحال کے لئے فنڈز کی کمی اہم مسائل ہیں،اس کے علاوہ ڈاکٹرابابگر بلوچ نے کہا کہ ان تمام مسائل کے باوجود اب تک ضلع بھر میں 24000 سے زائد افراد کا ڈینگی کا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے، جس میں 5700 کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں،انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں 6000 سے زائد گھروں میں ڈبلیو ایچ او، پی ڈی ایس آر یو، وی بی ڈی اور ایل ایچ ڈبلیوز کے تعاون سے لاروا کا خاتمہ کیا گیا ہے، علاوہ ازیں متاثرہ علاقوں کے اسکولوں، علماءکرام اور اساتذہ کرام کے ذریعے آگاہی مہم چلائی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ ٹیچنگ ہسپتال تربت میں اس سال اب تک 42000 سے زائد لوگ ہسپتال میں آئے ہیں جس میں سے 14000 سے زائد مریضوں کا ٹیسٹ کیا جاچکا ہے جس میں 2365 کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جن میں سے 1304 مریض ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں اور سب صحت مند ہوکر اپنے گھروں میں گئے ہیں،ڈاکٹر ابابگر بلوچ نے واضح کیا کہ میڈیا میں رپورٹ ہونے والی اموات کا بنیادی سبب لیٹ ڈاکٹر سے رجوع کرنا، خود سے علاج کرنا اور کراچی کی طرف سفر کرنا ہے، جس سے مریضوں کے جسم میں پانی کی کمی یا ضرورت سے زیادہ ڈرپ اور ادویات کے غیر ضروری استعمال ہوتا ہے، انہوں نے زور دیا کہ ڈینگی ایک اجتماعی مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کا تعاون ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ اگر مندرجہ بالا اقدامات وقت پر نہ کئے جاتے تو صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہوتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں