بلوچستان پسماندگی کا شکار ہے، حکومت روزگار فراہم کرے، فزیو تھراپی ایسوسی ایشن

کوئٹہ(پ ر)بلوچستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان جیسا صوبہ، جو ہر طرح کی سائل وسائل سے مالامال ہوئے کے باوجود پھر بھی پسماندگی کا شکار ہیں۔ جس میں ہر طرح سے انسانی زندگی کے بنیادی ضروریات بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔جس میں سب سے زیادہ بے روزگاری کا بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، دن با دن بے روزگاری کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ جو صحت اور تعلیم کی حالت کو پست بنانے سے بہت مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔آج بھی بلوچستان میں لاکھوں کی تعداد میں نوجوانوں بے روزگار ہیں، پسماندگی اور معاشی مشکلات کے باوجود والدین اپنے پیٹھ کاٹ کر اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔اور وہ نوجوانوں جو سولہ، سترہ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی بے یار و مددگار ہوکر ایک مایوسی کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔جن کے لیے روزگار کے کوئی مواقع موجود نہیں۔جو ایک سیاہ دھندے کی حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں ان کے مستقبل کیلئے کوئی بھی قابل قیام معاشی آپشن یا روزگار کی ممکنات نظر نہیں آتا۔بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاروں کی سب سے بڑی وجہ یہ کرپٹ نظام ، کمزور منصوبہ بندی، حکومت کی عدم توجہی،عوام دشمن پالیسیوں اور غیر سنجیدہ رویہ ہے،جس میں نظامی ناکامی ،بےروزگاری ،پسماندگی اور حستہ حال صحتی اور تعلمی نظام ان کمیوں کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ نظام میں نام کے سیاسی ٹھیکیداروں اور مافیاز کی روایتی بدعنوانیوں کی گھنا ماحول نے بے روزگارری اور باقی مسائل کو مزید گھمبیر صورتحال تک پہنچا دیا ہے ،جو پہلے سے ہی انحصار پذیر عوام کی مشکلات کو اور بڑھانے دیتے ہیں۔ باصلاحیت لوگ اور ترقیاتی منصوبوں کی کمی نے بے روزگاری کے چکر کو بڑھایا ہے، جس سے ان گنت نوجوانوں کو بے کاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے لیے معاشی افزائش کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں ہے۔بلوچستان میں کوئی ایسا شعبہ نہیں جو مسائل سے دو چار نہ ہو،آج بھی 1800 سے زائد فزیوتھراپسٹ ڈاکٹر پانچ سال کی ایک پروفشنل ڈگری کرنے کے باوجود بے روزگار بیٹے ہوئے ہیں۔صحت کے شعبے میں فزیوتھراپی ایک انتہائی اہمیت کا حامل فیلڈ ہے،جس کے بغیر صحت کا شعبہ نامکمل ہے۔جو مختلف بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو صحتیاب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہے۔جسمانی معزوری سے لے کر حادثاتی چوٹ ،نفسیاتی مسائل اور پیدائشی بیماریوں کو جدید طرز سے علاج کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔مگر گزشتہ کئی سالوں سے یہ فزیوتھراپسٹ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔لیکن حکومت کی طرف سے ان کے لیے کوئی مطمئن کن اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے۔ فزیوتھراپسٹ ہاو¿س آفیسرز بغیر کسی معاوضہ کے ایک سال تک گورنمنٹ ہوسپیٹلز میں ڈیوٹی دے کر اپنے لوگوں کو بہتر علاج مہیاءکرتے ہیں مگر ان کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا جو قابلِ تشویش ہے۔ہم حکومت وقت اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی صاحب سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ فزیوتھراپسٹ ڈاکٹر کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جلد سے جلد ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور تمام فزیوتھراپسٹ ہاو¿س آفیسرز کو معاوضہ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ بصورتِ دیگر اگر ہمارے جائز مطالبات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا تو مجبوراً ہمیں اپنے حقوق کی دفاع میں سیاسی اور جمہوری طریقہ کار کو اپنانا ہوگا۔ جس کے بعد ہم سخت سے سخت لائحہ عمل طے کریں گئے۔جس کے ذمہ دار حکومت وقت ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں