دشمن عناصر کہتے ہیں کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں، وزیر اطلاعات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دشمن عناصر کہتے ہیں کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں۔ کچھ ملک دشمن قوتیں اس وقت سرگرم ہیں، آج کی حکومت کو 1971 سے ملایا جارہا ہے تو یہ کون لوگ ہیں؟ یہ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں، پاکستان تا قیامت رہے گا اور پاکستان 27ویں رمجان کو بنا تھا اس پاکستان نے ترقی کرنی ہے اور آگے بڑھنا ہے، یہ لوگ جو خود کو شیخ مجیب سے ملاتے ہیں اس کا مقصد وہی ہے جو ہمیشہ ہوتا ہے، ایک جگہ عمران خان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا کہ اگر میں نا رہا تو پاکستان ٹوٹ جائے گا تو یہ اپنی سیاسی بقا کو پاکستان کی سلامیت سے جوڑتے ہیں، آپ چھوٹے مفادات کی خاطر پاکستان کے مفادات کو داو¿ پر لگا دیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ ان کی خواہش کہ سری لنکا کی طرح پاکستان دیفالٹ ہوجائے، میں نا رہا تو یہ ملک بھی فنا ہوجائے تو ایسا ہوگا نہیں ان کے کہنے سے، ان کا کیا دھرہ قوم کے سامنے ہے، آپ آئی ایم کو خط لکھیں، اس کے سامنے باہر مظاہرے کریں تو ان کی کوششیں سب کی سامنے ہیں۔عطا تارڑ نے کہا کہ ان کی آئی ایم ایف والی کوشش ان کی کامیاب نہیں ہوئی، ان کا مقصد تھا کہ میں اقتدار میں نہیں رہا تو پاکستان کے مفادات کو قربان کردوں اور یہاں تباہی پھیل جائے، انہوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستانی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی، یہ بعد میں شرمندہ بھی نہیں ہوتے، انہوں نے سائفر کی کہانی گھڑی کیا قومی سلامتی کھیلنے کے لیے ہوتی ہے؟ ہماری کاوشوں سے دوست ممالک سرمایہ کاری کی بات کر رہے ہیں، انہوں نے دوست ممالک کے تحائف بیچے تو کیا ان ممالک کو محسوس نہیں ہوا ہوگا کہ یہ ہمارے تحائف بلیک مین بیچ دیتا ہے، تو ان کی کرتوت یہ ہے اور خود کو شیخ مجیب سے ملاتے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں غزہ میں جنگ بندی ہو اور ظلم بند ہو۔ریاض میں ورلڈ اکنامک فورم میں وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ بات کی کہ غزہ میں امن کے بغیر دنیا میں امن نہیں ہوسکتا، ریاض کا وہ ہال اس بات پر تالیوں سے گونج اٹھا تھا، یہ مقامات ہوتے ہیں جب آپ اپنی آواز اٹھا سکتے ہیں، وزیر اعظم نے ناروے اور آئرلینڈ کی وزرائے اعظم سے بھی بات چیت کی ہے تو اس کا اچھا اثر پڑے گا اور مظلوم فلسطینیوں کو پتا چلے گا کہ کچھ ممالک ان کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم فلسطین میں امن کے خواہاں ہیں، یہ جو دوسرے ممالک کے ساتھ روابط ہیں یہ بہت اہم ہے، ہم اس پر اظہار یکجہتی کرتے ہیں، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ دیرپا امن کے لیے اس کوئی حل نکلے۔عطا تارڑ نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری کونسل میں اہم فیصلہ ہوا سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے، وزیر اعظم جہاں جارہے ہیں وہ بات کر رہے ہیں کہ ہم کشکول توڑنا چاہتے ہیں، ہمیں مالی امداد نہیں چاہیے ہم سرمایہ کاری اور تجارت چاہتے ہیں، ایس آئی ایف سی کو بہت پذیرائی مل رہی ہے جو دوست ممالک ہیں ان کے سرمایہ کار بہت خوش ہیں کہ ایک ہی فورم سے ان کے تمام معاملات حل ہوجاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شہباز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ 7 ڈیسک قائم کیے جائیں گے جن میں چائنا ڈیسک، قطر ڈیسک، یو اے ای ڈیسک، سعودی ڈیسک، یورپی یونین ڈیسک، امریکا ڈیسک اور فار ایسٹ ڈیسک شامل ہیں، یہ ڈیسک ایس آئی ایف سی کے اندر قائم کیے گئے ہیں، جن کی توجہ سرمایہ کاری لانے اور تجارت کے حجم کو بڑھانے پر مرکوز ہوگی، متحدہ عرب امارات کی سرکاری ایجنسی نے 10 ارب ڈالر مختص کرنے کی خبر ریلیز کی، سعودی عرب کے ساتھ بھی 5 ارب ڈالر کی بات چیت چل رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں