صرف پاکستان اور افغانستان سے پولیو ختم نہیں ہو سکا ہے، ڈاکٹر عبدالصمد لانگو
خضدار(بیورورپورٹ) ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریٹرسینٹر (DEOC) اورکمیونیکیشن انسداد پولیو پروگرام کے ایمنائزیشن آئی او آفیسر ڈاکٹر عبدالصمدلانگو نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان اور افغانستان صرف دوممالک میں ایسے بچے ہیں جہاں مکمل طور پر پولیو کے مرض کا خاتمہ نہیں ہوسکا ہے جبکہ پاکستان میں امسال چارنئے متاثرین بچے میں پولیو رپورٹ ہوئے ہیں ۔ پولیو وائرس بچوں کو زندگی بھر کیلئے نہ صرف مفلوج کرسکتاہے بلکہ اس کیساتھ ساتھ موت کا بھی باعث بن سکتاہے ۔ پولیو وائرس کے بارے میں عوام میں آگاہی مہم پیداکرنے کیلئے تمام ممکنہ کاوشیں عمل لارہے ہیں تاکہ اس موذی بیماری سے ملک کو مکمل طور پر پاک کیاجاسکے۔ ان خیالات کااظہار ڈاکٹر عبدالصمد لانگو یونسیف پیپلز آرگنائزیشن کی جانب سے خضدار پریس کلب کے ہال میں پاکستان انسداد پولیو پروگرام کے منعقدہ آگاہی سمینار سے خطاب کیا۔ سمینار سے کمیونیکیشن آفیسر محمد رحیم جتک، خضدارپریس کلب رجسٹرڈ کے صدر میر علی شیر نازبراہوئی، انجمن اتحاد معذوران خضدارکے چیئرمین سردارعلی احمد رحمیزئی، صدر حافظ عبدالرازق شاہوانی، سابق صدر ملک منیراحمد شاہوانی، ودیگرنے خطاب کیا پروگرام میں انجمن اتحاد معذوران کثیر تعداد میں شرکت کی۔ انسدادپولیو مہم پروگرام سے ڈاکٹر عبدالصمد لانگو، محمد رحیم جتک ودیگرمقررین نے کہا پولیو سے پاک معاشرے کی قومی ذمہ داری ہرایک کے کندھے پرہے اس وقت پولیو معصوم زندگیوں کیلئے چیلنج بناہوا ہے پولیو ایک مہلک مرض ہے جوہمارے بچوں کو معذوری کا شکار بناتا ہے ہم ملکر معاشرے کو آنے والی نسلوں کیلئے پولیو سے پاک بناسکتے ہیں ۔ خصوصاََ والدین سے اپیل ہے کہ پولیو مہم کے دوران اپنے بچوں کو انسدادپولیو کے قطرے پلائیں اورموذی مرض سے بچائیں ۔ مقررین نے کہا پولیو سے جنگ قوم کے نونہالوں کے مستقبل کی جنگ ہے ۔ اس خطرناک بیماری سے بچنے کاواحد طریقہ پولیو سے بچاو¿ کے حفاظتی قطرے پلانا ہے ۔ پیدائش سے لے کر پانچ سال کے کم عمر بچوں میں پولیو کے دو قطرے اور ویکسئین کے ذریعے قوت مدافعت پیداکی جائے تاکہ آنے والے نسل کو اس موذی مرض سے بچاکراپنے ملک وملت کو اس مہلک بیماری سے ہمیشہ کیلئے پاک صاف رکھیں۔


