خضدار،تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے،پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی اپیل
خضدار(بیورورپورٹ) جعفرآباد میں کورٹ میرج کرنے والا پریمی جوڑا جان کی تحفظ کے لئے خضدارپہنچ گیا ،ہم نے کورٹ میرج کی ہے لڑکی کے ورثاء ہمارے جان کے دشمن بن گئے ہیں جعلی آیف آئی آر ختم کرکے ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے پریمی جوڑے کی اپیل تفصیلات کے مطابق ضلع جعفر آباد سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ پولیس اہلکار علی شیر کھوسہ ولد دین محمد اور لاڑکانہ سندھ سے تعلق رکھنے والی اپنی اہلیہ عائشہ بی بی بنت محمد انورمیرانی کےہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے باہمی رضامندی سے جعفر آباد میں کورٹ میرج کی ہے ہماری شادی کے بعد میرے بیوی عائشہ میرانی کے چچا عبدالعزیز میروانی ہمارے جانی دشمن بن گیاہے ہمارے خلاف لاڑکانہ میں بے جا مقدمہ درج کیا ہے مقدمہ میں یہ الزام لگایا ہے کہ علی شیر کھوسہ نے عائشہ سمیت دو لڑکیوں کو اغواء کیا ہے جو کہ بنیادی طور پر غلط الزام ہےصرف عائشہ بی بی میرے ساتھ آئی ہے اور ہم نے باہمی رضا مندی سے کورٹ میرج کردی ہے جس کے تمام شواہد موجود ہیں انہوں نے کہا کہ عائشہ بی بی کے ورثاء خصوصاً اس کے چچا عبدالعزیزمیرانی سے ہماری زندگی کو شدید خطرات لاحق ہے ہم جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہے لاڑکانہ اور جعفر آباد میں ہمارے عزیز و رشتہ داروں کو تنگ کیا جا رہا ہے حکومت ہمیں تحفظ فراہم کریں اور ہمیں آزادانہ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے اس وقت ہم بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سرچھپاکر کبھی ایک کے گھر کبھی دوسرے کے گھر سر چھپاکر پھر رہے ہیں میری بیوی عائشہ بی بی عاقل و بالغ اور سمجھ دار ہے ملکی قوانین اسے مرضی اور پسند کی شادی کی اجازت دیتی ہے ہم نے ملکی قوانین کے مطابق شادی کر لی ہے اب عائشہ بی بی کےورثاء زندگی ہم پر تنگ کردی ہے جن کے خوف سے ہم چھپے ہوئے ہیں بیوی عائشہ میرانی کے اہلخانہ اورچچا نے لاڑکانہ تھانہ ولید مجھ پراغواء کا مقدمہ درج کرلیاہے پسند کی شادی کرنے والی پریمی جوڑے نے سندھ لاڑکانہ کے اعلی حکام سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔


