صوبائی اسمبلی لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کیخلاف بل پاس کرائے، ہارڈ بلوچستان
کوئٹہ (آن لائن)ہارڈ بلوچستان کے رہنماءضیاءبلوچ ، روبینہ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کی تعلیم میں ثقافتی رکاوٹیں بہت بڑے مسائل ہیں خواتین کے پاس ملازمت کے مواقع محدود، خواتین کو روزگار کے امکانات کے بارے میں معلومات تک محدود رسائی ہے۔ خواتین کو گھریلو تشدد جنسی طور پر ہراساں کرنے اور غیرت کے نام پر قتل کا سامنا کرنا پڑتا ہے زیر التواءبلوچستان میں بچوں کی شادی پر پابندی کا قانون فوری طور پر نافذ کیا جائے تاکہ صوبے میں 18 سال سے کم عمر کی ہر قسم کی کم عمری کی شادیوں کو غیر قانونی قراردیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر امبرین ضمیر، شازیہ بلوچ، مریم ناصر، سلمیٰ، فضیلہ و دیگر بھی موجود تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چارٹر آف ڈیمانڈ جو مختلف مشاورتی عمل کے بعد تیار کیا گیا ہے۔WIDA کے اجلاسوں کے دوران اور مختلف دیگر ،سماجی، سیاسی افراد کی مشاورت سے اور کمیونٹی اسٹیک ہولڈرز پروجیکٹ کے تحت خواتین کی شرکت کو مضبوط بنانا بلوچستان پاکستان میں جمہوری عمل میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ جلداز جلد بلوچستان اسمبلی سے شادی کا بل پاس کرایا جائے۔ لڑکیوں کی شادی اکثر کم عمری میں کر دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے صحت کے خطرات، محدود تعلیم اور محدود مواقع ہوتے ہیں۔ یونیسیف کے مطابق پاکستان میں21 فیصد لڑکیوں کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے۔ بہت سی اموات کو روکا جا سکتا ہے۔ کوئٹہ میں کئی سال سے بلدیاتی ادارے تحلیل ہو چکے ہیں لیکن حکومت بلدیاتی انتخابات نہیں کروارہی جس کا خمیازہ عوام کو بھتگناپڑرہا ہے اور لوگ حقوق سے محروم ہیں خواتین کے سیاسی حقوق کا تحفظ کرنے والی قانون سازی کے باوجود، سیاسی فیصلہ سازی میں خواتین کی نمائندگی کم ہے، جہاں ووٹر لسٹ میں خواتین کے مقابلے مردوں کی تعداد 11.7 ملین زیادہ ہے۔ خواتین اکثر غیرت کے نام پر قتل کا شکار ہوتی ہیں، جسے خاندانی غیرت کے تحفظ کے لیے جائز قرار دیا جاتا ہے۔ ہم بلوچستان حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ غیرت کے نام پر قتل کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ خواتین کو سخت سماجی اور ثقافتی اصولوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی نقل و حرکت کی آزادی انتخاب اور خودمختاری محدود ہوتی ہے۔ پاکستان میں 70 فیصد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں، اور 93 کیسز غیر رپورٹ ہوتے ہیں۔ اور ڈیجیٹل تشدد، محدود قانونی تحفظات کے ساتھ خواتین کو کام کی جگہ پر امتیازی سلوک براساں کیے جانے اور غیر مساوی تنخواہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین کو ٹیکنالوجی تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بشمول موبائل فون اور انٹرنیٹ، جو معلومات اور اقتصادی مواقع تک ان کی رسائی کو محدود کرتی ہے۔ خواتین کو انصاف تک رسائی میں چیلنجز کا سامنا ہے، بشمول قانونی امداد عدالتوں اور قانون کے نفاذ تک محدود رسائی خواتین کو انصاف تک رسانی میں چیلنجز کا سامنا ہے۔


