چمن میدان جنگ بن گیا، فورسز سے جھڑپوں میں 32 افراد زخمی
چمن (یو این اے) چمن میںمشتعل مظاہرین اور ایف سی کے درمیان جھڑپیں، 32 سے زائد افراد زخمی، مال روڈ میدان جنگ بن گیا، مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے سیکورٹی فورسز کی جانب سے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا تفصیلات کے مطابق چمن میں 4 مئی سے سیکورٹی فورسز اور محنت کشوں کے درمیان جنگ مسلط ہوئی جس میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 15 سے زخمی ہوئے تھے اس واقعہ کے بعد دھرنا کمیٹی کے فیصلے پر چمن کوئٹہ شاہراہ تجارت کیلئے بند کر دی اسی طرح پاسپورٹ دفتر پریس کلب سمیت تمام بنک بند کئے جو تاحال بند ہے مظاہرین نے پولیو مہم کو بھی بند کرکے لیویز اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر زدو کوب کیا انتظامیہ نے ملوث ملزمان کے خلاف دہشت گردی کا ایف ائی ار درج کیا گزشتہ روز ڈی سی دفتر میں جاری ہڑتال کو ختم کرنے کیلئے پرلت کمیٹی سے مذاکرات کئے جس میں ڈپٹی کمشنر کے مطابق پرلت کمیٹی کے ذمہ دار بندے ڈی سی پر حملہ آور ہوئے ڈی سی کو اپنے محافظین نے بچا لیا اور دفتر میں توڑ پھوڑ کی اسی شب تمام پرلت کے اہم قیادت گرفتار ہوا اور کوئٹہ منتقل کئے گرفتار افراد میں 7 افراد پر انسداد دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا اور فورسز نے کوئٹہ چمن شاہراہ کو ٹریفک کیلئے بحال کرکے وہاں پر قائم خیموں کو آگ لگا دی تاہم 8 ماہ سے جاری دھرنے کے باقی منتظمین نے ڈی سی دفتر کے سامنے دھرنا دیا اور مشتعل مظاہرین نے پریس کلب کو لوٹ لیا اور دھرنا منتظم فیض محمد نے مظاہرین کو حکم دیا کہ ایف سی قلعہ کے سامنے اپنے قائدین کی رہائی کیلئے سخت احتجاج کریں اور کچھ کوژک پر جاکر روڈ دوبارہ بلاک کردیں جس پر مظاہرین ایک بار پھر اشتعال میں آکر ایف سی قلعہ کے سامنے ٹائر جلا کر احتجاج شروع کیا اور ایف سی احکام کے مطابق پتھراو شروع کی جن کو منتشر کرنے کیلئے ایف سی کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں فائر کئے جس میں ہسپتال کے مطابق 32 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں 5 افراد کو کوئٹہ منتقل کر دیئے ۔ چمن میں جاری جنگ بندی کیلئے سیاسی پارٹیوں نے مداخلت کی اور مشتعل مظاہرین کو پرامن کئے تاہم دھرنا کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ ہمارے گرفتار قیادت کو فوری طور پر رہا کئے جائیں ورنہ احتجاج کا دائرہ سخت کریں گے ۔


