چمن میں فورسز نے کنٹرول سنبھال لیا، پیر سے تمام بینک کھول دیے جائیں گے، ڈی سی
چمن (یو این اے) سرحدی ضلع چمن میں 8 ماہ سے بارڈر شاہراہ پر دھرنا جاری، مقررین نے گرفتار قیادت کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے چمن میں ون ڈاکومنٹ ٹریولنگ پالیسی کیخلاف جاری دھرنا آٹھ ماہ سے جاری ہے، پولیو مہم میں رکاوٹ اور دھرنا منتظمین کے گرفتار رہنما?ں کے خلاف پرتشدد واقعات میں 35 سے زائد افراد زخمی اور 8 سالہ ایک بچہ شہید ہوا جبکہ درجنوں مزید نوجوان گرفتار ہوئے ہیں، گرفتار و زخمی افراد کی عمریں 18 سے 25 سال بتائی گئی ہیں، ان تمام پرتشدد واقعات کے بعد پولیس اور ایف سی نے حالات قابو میں لیکر شہر کے امن وامان کو کنٹرول کرلیا اور شہر میں پولیس کا گشت جاری ہے، پولیس کے مطابق سرکاری املاک کو نقصان اور کار سرکار میں مداخلت پر 170 افراد کیخلاف ایف آئی آر درج ہے، جس کی گرفتاری کیلئے ہر رات چھاپے مارے جارہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر راجہ اطہر عباس نے بتایا کہ ہم کسی کو اسٹیٹ کی رٹ چیلنج کرنے نہیں دیں گے، جس نے ہمارے اہلکاروں پر تشدد کیا، اس کیخلاف ایف آئی آر درج کی ہے اور قانونی کارروائی کریں گے، ہم کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کرنے نہیں دیں گے، پرامن احتجاج ہر تنظیم پارٹی کا جمہوری حق ہے، ہم نے چمن کوئٹہ شاہراہ کو ٹریفک کیلئے کھول دیا اور پیر سے ایک ماہ سے بند تمام بنک دوبارہ سخت سیکورٹی میں کھول دیے جائیں گے کیونکہ عید کا موقع ہے ملازمین نے اب تک تنخواہیں نہیں لی ہیں اور بنکوں کی بندش سے تمام کاروباری مراکز بھی سخت متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب بارڈر شاہراہ پر آٹھ ماہ سے پرامن دھرنا جاری ہے، لغڑی اتحاد کے رہنما?ں کی گرفتاری کے بعد پرلت میں سیاسی قبائلی و علما کرام کی تقاریر جاری ہیں جس میں بارڈر پر پاسپورٹ فیصلہ واپس لینے کے ساتھ اب اپنے گرفتار افراد کی رہائی کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔


