کوہلو میں متعلقہ افسران و قبائلی رہنماﺅں کا غیر حاضر لیویز اہلکاروں سے بھتہ لینے کا انکشاف
کوہلو (یو این اے) بلوچستان ضلع کوہلو میں لیویز فورس کے سینکڑوں اہلکار اپنے ڈیوٹی سر انجام دینے سے قاصر ہیں،، ذرائع کے مطابق کوہلو لیویز فورس کے چوبیس سو کے قریب اہلکاروں میں سے صرف چند ایسے اہلکار ہیں جو اپنے ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں اس کے علاوا سینکڑوں کی تعداد میں لیویز اہلکار ڈیوٹی ہی نہیں دیتے جو متعلقہ افسران اور قبائلی رہنماں کو کاٹ یعنی بھتہ دے کر ڈیوٹی سے آزاد ہیں، ذرائع کا دعوی ہے لیویز کے فی اہلکار سے دس سے پندرہ ہزار ماہانہ بھتہ لیکر انہیں ڈیوٹی سے آزاد کیا جاتا ہے، چشم پوشی کے لئے متعلقہ افسران، قبائلی رہنماں اور صحافیوں کو بھی بھتہ دیا جاتا ہے، لیویز فورس کے اہلکاروں کا اپنے ڈیوٹی سر انجام نہ دینے کی وجہ سے کوہلو بی ایریا میں آئے روز چوری، قتل، بم بلاسٹ و دیگر جرائم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے باعث دور دراز کے علاقوں میں رہائش پزیر مکینوں کے جان و مال محفوظ نہیں ہے، خیال رہے کہ سابق ڈپٹی کمشنر کوہلو نقیب اللہ کاکڑ نے ڈیوٹی سے غیر حاضر لیویز اہلکاروں کو ملازمت سے برخاست کرنے اور اہلکاروں کو قبائلی وسیاسی شخصیات کے ساتھ ڈیوٹی نہ کرنے کی ہدایت کی تھی، اس حوالے سے عوامی حلقے کا کہنا ہے کہ آمن وامان کے نام پر سالانہ کروڑوں روپے لینے والے لیویز فورس کے اہلکاروں ڈیوٹی دینے کے بجائے متعلقہ افسران کو بھتہ دے کر اپنے ڈیوٹی سے آزاد ہیں، انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی، ڈی جی لیویز نصیب اللہ کاکڑ، کمانڈنٹ ایف سی میوند رائفل کرنل بابر خلیل، ڈپٹی کمشنر کوہلو سمیت دیگر احکام بالا سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیویز فورس کے غیر حاضر اہلکاروں کو ڈیوٹی پر پابند کیا جائے اور اہلکاروں سے بھتہ لینے والے متعلقہ افسران کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔


