ماشکیل مزہ سر راہداری گیٹ کی بحالی خوش آئند اقدام ہے، تفتان بس ٹرانسپورٹ یونین
کوئٹہ(یو این اے )چیئرمین تفتان بس ٹرانسپورٹ یونین میر محمود خان بادینی رخشان بیلٹ ٹرانسپورٹرز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے عرصے بعد ماشکیل مزہ سر راہداری گیٹ کی بحالی کو خوش آئند اقدام سمجھتے ہیں ںارڈری اضلاع کے پسماندہ طبقات خصوصابس ٹرانسپورٹرزکےجائزمطالبات کو بھی تسلیم کرکے ان پر عملدرآمد کرنا اعلی حکام حکومت بلوچستان، وزارت داخلہ، ایف بی آر کسٹمزکی ذمہ داری ہے اور رخشان ڈویژن سےتعلق رکھنے والے عوامی نمائندےہمارےرخشان بیلٹ کے ٹرانسپورٹرز کا دیرینہ مسائل پرتوجہ مرکوز کریں کیونکہ تفتان روڈ پر درجنوں چیک پوسٹوں کے پبلک ٹرانسپورٹ کو ایشیا خوردونوش گھریلوں استعمال کی پرچون سامان کی محدود پیمانے پر نقل و عمل اپنی مددآپ چھوٹے گاڑیوں اوربس ٹرانسپورٹ کے ذریعہ بطور روزگارمصروف عمل تھے ان جگہ جگہ قائم جوائنٹ اور کسٹم چیک پوسٹوں کی بناپر ان کے کاروبار پر مکمل قدغن لگا دیا گیا ہے جس کی بناپر ہزاروں خاندانوں کے چھولے بجھ گئے ہیں جنکامعاشی اعتبار سے زندگیا پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچنے کوہیں اس طرح کے چھوٹے موٹے کاروبار کو سمنگلنگ کانام دیکراعلی سطحی ایپیکس کمیٹی میں روزگارکو بند کرنے کے فیصلے کے بجائے ہمارے بلوچستان کی حد تک ریلف فراہم کیاجانا چائیے اب توبلوچستان کے ٹرانسپورٹرز کا یہ بیانیہ درست ہے کہ اسی مملکت خداداد پاکستان میں سندھ پنجاب وغیرہ کی نیشنل ہائی ویز پر کوئی ادارہ اینٹی اسمگلنگ کے نام پر ٹرانسپورٹ کو بار بار نہیں روکتے تو پھر بلوچستان کی نیشنل ہائی ویز پر یہ ظلم کیوں؟ قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہیے، جبکہ گزشتہ عرصہ سے بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز ژوب سے گوادر تک رکنی سے تفتان تک اپنے اپنے جائز مطالبات کے حق میں جمہوری انداز میں پرامن احتجاج کرتے رہیں ہے، آخر میں ہم کمانڈر 12کور کور کمانڈر بلوچستان،گورنر بلوچستان وزیراعلی بلوچستان چیف سیکریٹری بلوچستان ہوم سیکرٹری بلوچستان اور دیگر تمام متعلقہ حکام سے مشترکہ مطالبہ کرتے ہیں وسائل سے مالا مال بارڈری اضلاع کی بیروزگارنوجوانوں ٹرانسپورٹروں عوام کو کسمپرسی سے نکالنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں۔


