بلوچستان ،بڑی عید پر مہنگائی کا بڑا طوفان، ٹماٹر، لہسن، ادرک اور پیاز کی قیمت میں تیزی کا رجحان
خضدار(بیورورپورٹ) عیدالاضحیٰ سے ایک روز قبل قیامت خیز مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکلوا دیں دکانداروں نے گوشت کی تیاری میں استعمال ہونے والے ٹماٹر، پیاز، ادرک، لہسن اور سبز مرچ, مصالحہ جات لیموں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے گھریلو بجٹ درہم برہم کر دیا پرائس کنٹرول کمیٹیاں غیر فعال، سرکاری اعداد و شمار میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے ‘سب اچھا’ کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو دی جانے لگی۔ تفصیلات کے مطابق خضداراور نواحی علاقوں میں عیدالاضحیٰ سے قبل پھل، سبزیوں، ڈیری مصنوعات سمیت دیگر اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے، اس حوالے سے ضلع کی پرائس کنٹرول کمیٹی حسبِ سابق خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی نظرآرہی ہیں، شہریوں نے تاجران کی خود ساختہ گرانفروشی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس کا نوٹس لیا جائے اور قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے، بکرا عید قریب آتے ہی گھروں میں استعمال ہونے والے مصالحہ جات پیاز، ٹماٹر، ادرک، لہسن، سبز مرچ و دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئی ہیں،جبکہ بکرا عید میں ایک دن رہ گئی ہے ویسے ہی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے، مہنگائی سے ستائے شہریوں نے زرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی پہلے ہی اتنی ہے کہ ہم پریشان ہیں کہ بچوں کے کپڑوں کی خریداری کیسے کریں، کیونکہ مہنگائی کے طوفان نے زندگی اجیرن بنادی ہے اور ہمارے لئے قربانی کرنا بھی بہت مشکل ہوچکا ہے، مویشی منڈی میں جانوروں کی ریٹ بھی آسمان سے باتیں کررہی ہے جنہیں خریدنا بہت مشکل ہے۔ مہنگائی نے غریب عوام کو عید سے پہلے ذبح کرنا شروع کردیا ہے پیاز ٹماٹر لہسن ادرک آلو مرغی کے گوشت سمیت دیگر اشیا سمیت مصالحہ جات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے شہریوں کے اوسان خطا کر دیئے، اسی طرح مختلف اقسام کے مصالحہ جات کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ عید قربان کے قریب آتے ہی دکانداروں نے خود ساختہ مہنگائی کا طوفان برپا کرکے رکھ دیا ہے، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، سبزیاں،پھل،دالیں اور مشروبات ہر چیز کو جیسے مہنگائی کے پر لگ چکی ہیں سبزی فروشوں نے پیاز،ٹماٹر بھی مہنگے کر دیئے گئے ہیں ٹماٹر کی قیمت یکدم 50روپئے 200روپئے تک جاپہنچی ہے جس کیوجہ سے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ اور متعلقہ حکام خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں، شہریوں نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے اس دفعہ عید کے موقع پر بچوں کو نئے کپڑے دلوانا بھی مشکل ہو چکا ہے اور اوپر سے روزمرہ کے استعمال کی اشیا مہنگی ہونے سے غریب اور متوسط طبقے کے افراد کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جبکہ اس مہنگائی کے طوفان کا نوٹس لینے والے پرائس کنٹرول کمیٹی حکام ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر مہنگائی سے بلبلاتے شہریوں کی آہو بکا سنتے ہوئے تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں،کہیں بھی حکومتی رٹ قائم ہوتی نظر نہیں آ رہی ہےعوام منافع خوروں کی ہاتھوں لٹنے لگی ہے حکام بالانوٹس لیں۔


