حکومت زمباد مالکان کے مطالبات مان کر بارڈر تک رسائی آسان بنائے، بی ایس او پچار
آواران (انتخاب نیوز) بی ایس او بچار کے مرکزی رکن شفیق مہر بی ایس او پجار آواران زون کے صدر علی شیر بلوچ نیشنل پارٹی آواران کے نوجوان کارکن حمل اکبر بلوچ کا آج شام زمباد یونین آواران کے احتجاجی دھرنے میں شرکت۔ زمباد یونین آواران کی احتجاجی مظاہرہ دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ دو دن تک مین بازار آواران میں پر امن بھیٹنے کے باوجود ضلعی انتظامیہ اور حکومتی سطح پر ان کی مطالبات کی منظوری کو ان سے ملنا بھی گوارا نہیں کیا گیا۔ آج زمباد مالکان نے اپنے احتجاجی مرحلے ضلع آواران کی حدود میں سوراب بیدی کے مقام پر غیر معینہ مدت تک ان تمام تیل بردار گاڑیوں کیلئے سڑک بند کردی ہے۔ ہم زمباد یونین کی احتجاجی مظاہرے اور تیل بردار گاڑیوں کیلئے اپنے جائز حقوق کی خاطر سڑک بند کرنے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ اور حکومتی ذمہ داران سے واضح انداز میں کہتے ہیں کہ وہ ضلع آواران کے غریب زمباد مالکان کے مطالبات مان کر ان باڈر تک ان کی رسائی آسان بنائیں۔ حکومت روزگار دشمن پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ بلوچستان کی شورش کا واحل حل روزگار کی فراہمی ہے بجائے اس کے متعلقہ ادارے روزگار دیتے وہ بلوچ قوم کی خودکار روزگاری پر کاری ضرب لگاچکی ہے۔ بے بس زمیاد والوں کے گھر بار بچوں کو رزق بارڈر سے وابسطہ ہے گزشتہ ایک سال بند ہے اِن حالات میں انہوں نے اپنی زندگی کیسے گزارے ہوگی ائیرکنڈیشن میں بیٹھا کسی سیاسی و سرکاری عہدیدار کو اس کا ادراک نہیں۔


