خضدار میں بھکاریوں کی یلغار نے شہریوں کا جینامحال کر دیا

خضدار(بیورو رپورٹ) صوبہ بھر میں بھکاریت ایک کاروباری شکل اختیار کرچکی ہے اور خصوصاََ خضدار میں پیشہ ورانہ بھکاریوں کی یلغار نے شہریوں کا جینا حرام کردی ہیسندھ کے مختلف علاقوں سے آئیہوئے گداگروں بھکاریوں نے گرمی سے بھاگ کرسال بھر خضدار کو ٹھیکے میں لیہے جنکا پیشہ صرف بھیک مانگنا ہے انکے شر کی وجہ سے لوگوں کا جینا محال ہوگیا ہے جن میں بیشتر خواتین چھوٹے چھوٹے بچے اوربچیاں شامل ہے تفصیلات کے مطابق خضدار میں کئی سالوں سال پیشہ ورانہ بھکاریوں کی یلغار ہے جوکہ آجکل دکانوں سے سامان چوری اور جیب کترمیں ملوث ہیخضدار میں دن بدن پیشہ وارانہ بھکاریوں اورگداگروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے سودا سلف لینے والے کاہکوں کو بیزارکرنے علاوہ مسجدوں کے گیٹوں میں ہرنماز کے وقت لائنوں کھڑے ہوکر بھیک مانگی جارہی ہے اپنے علاقہ سندھ کو چھوڑکر خضدار کو ٹھیکے پر بھیک مانگنے کیلئے لیا ہے انکا چوری چکاری وطیرہ بن چکا ہے بازار کے علاوہ گلیوں میں بھی آجکل چوڑی بیچنے اور خیرات مانگنے کے بہانے بچے اغواء￿ اور دیگر سنگین برائیوں میں ملوث ہونے کی شواہد موجود ہیں خضدار پولیس انتظامیہ صرف تماشائی بنا بیٹھا ہے کچھ بھکاریوں نے شہریوں کاجینا حرام کردی ہے بیشترسندھ سے آئے ہوئے پیشہ وارانہ بھکاریوں میں خواتین اور بچے شامل ہے آجکل چی اینڈ چی موٹر سائیکل میں سوار ہوکر دیہاتوں میں فٹبال ٹیم کی طرح جاکر بھیک مانگتے ہیں شام کو پھر واپس اپنے ٹھکانے آتے ہیں جوکہ اپنے آپ کو معذور ثابت کرکے بھیک مانگا جارہا ہے اور اسی گداگری کے نام کا فائدہ اٹھاکر شہر میں چوری کی وارداتیں کی جاتی ہے جس پر کنٹرول کرنا پولیس کی ذمہ داری ہیخضدار کے عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر خضدار محمد عارف خان زرکون ایس ایس پی پولیس خضدار عبدالعزیز جکھرانی سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر پیشہ وارانہ بھکاریوں کے خلاف کاروائی کرکے عوام کو اسی کی شر نجات دلائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں