گوادر میں دھرنا جاری، شاہراہیں اور انٹرنیٹ بند، 450 افراد کیخلاف مقدمات درج

کوئٹہ، حب، آواران، قلات، چاغی (بیورو رپورٹ، نمائندگان انتخاب، نامہ نگاران، ایجنسیز) بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے گوادر کی میرین ڈرائیو پراحتجاجی دھرنا چھٹے روز بھی جاری ہے، حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کے 2 دور بھی اس مسلسل احتجاج کوختم کرانے میں کارگر ثابت نہیں ہوسکے ہیں۔ادھر احتجاج کی شدت میں اضافہ کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد شہر کے علاقے سریاب روڈ، قمبرانی روڈ ، ارباب کرم خان روڈ، بروری روڈ اور مشرقی و مغربی بائی پاس میں دوکانیں جزوی طور پر بند ہیں۔اس کے برعکس شہر کے مرکزی علاقے میں کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہیں اس کے علاوہ شہر میں ٹریفک بھی معمول کے مطابق رواں دواں ہے، تاہم گزشتہ چھٹے روز سے ریڈ زون کو جانیوالے تمام راستوں کو خاردار تاروں اور کنٹینرز لگا کر سیل کردیا گیا ہے۔صوبے کے دیگر اضلاع مستونگ، قلات، دالبندین، چاغی سمیت مکران ڈویژن کے مختلف علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں چوتھے روز بھی معطل ہیں، جبکہ گوادر میں گزشتہ چھٹے روز سے دکانیں بند ہونے کے باعث غذائی قلت کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ قلات اور حب کے مقام پر بند ہے جبکہ مکران کوسٹل ہائی وے پر بھی آمدورفت معطل ہے، جس کے باعث تفتان میں گزشتہ 6روز سے ایران سے وطن لوٹنے والے زائرین پھنسے ہوئے ہیں، گوادر کے داخلی و خارجی راستے تاحال بند ہیں جسکے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر رکاوٹوں اور وقفے وقفے سے ٹریفک معطل کا سلسلہ جمعرات کے روز ساتویں روز بھی رہا قومی شاہراہ پر رکاوٹوں کی وجہ سے نہ صرف اندرون بلوچستان سے آنے والی مسافر بردار گاڑیوں کو کراچی پہنچنے میں رکاوٹوں کا سامنا ہے بلکہ بیلہ اوتھل وڈھ وندر اور کوسٹل ہائی وے سے متصل دیہی علاقوں کو خوراک ادویات اور دیگر سامان کی رسد پہنچنے والی لوکل ٹرانسپورٹ بھی معطل ہے جسکی وجہ سے ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ گوادر میں بلوچ راجی مچی کے خلاف انتظامیہ و سیکیورٹی اداروں کی دھاوا بولنا گرفتاریوں کے خلاف گزشتہ تین دنوں سے آواران میں شٹرڈاون ہڑتال ہوا اور آواران میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر ریلی نکالی گئی جس میں خواتین نے آواران کے مختلف علاقوں سے کئی کلومیٹر پیدل چل کر ریلی میں شرکت کیا۔ ریلی میں بزرگ مرد اور عوام نے بھی بھرپور شرکت کیا۔ ریلی ڈی ایچ کیو ہسپتال آواران ہوکر مین بازار تک اختتام پذیر ہوا جہاں ایک احتجاجی دھرنے کی شکل اختیار کیا۔ دھرنے سے بی وائی سی آواران کے رہنماو¿ں نے خطاب کیا اور گرفتار لوگوں کی فوری رہائی و روڈوں کو آمد و رفت کیلئے فوری کلیئر کرنے کی مانگ کیا۔ مطالبات پر عمل نہ ہونے پر بی وائی سی کی مرکزی کال پر ہڑتال غیرمعینہ مدت تک لیجانے کا بھی اعلان کیا۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے قلات میں جمعرات کے روز مکمل شٹر ڈاون ہڑتال و پہیہ جام ہڑتال احتجاجی مظاہرہ ، شٹر ڈاو¿ن ہڑتال سے تمام کاروباری مراکز مارکیٹیں مکمل دن بھر بند رہیں جبکہ کوئٹہ کراچی شاہراہ N25 مغل چوک مغلزئی کے مقام پر بی وائی سی کی جانب سے رکاوٹیں ڈال کر بلاک کر دیا گیا مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے مظاہرین نے نعرے بازی کی اور دھرنا دیا مظاہرین میں کمسن بچے بھی شامل تھے شاہراہ کی بندش سے متعدد گاڑیاں پھنس کر رہ گئیں مسافروں کو شدید گرمی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بعد ازاں مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہوگئے اور روڈ ٹریفک کیلئے بحال کردیا گیا دوسری جانب تین روز مسلسل شٹر ڈاو¿ن ہونے کے ایک دن کے وقفے کے بعد جمعرات کے روز دوبارہ شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کی گئی جس کے باعث عوام کو اشیائ خوردونوش کی قلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم ہڑتال کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ بلوچستان کے سرحدی علاقے چاغی کے ہیڈ کوارٹر دالبندین، تفتان ،نوکنڈی، چاگئے میں پانچویں روز بھی مکمل طور پر شٹرڈاون ہڑتال تمام کاروباری مراکز بند، پاک ایران آر سی ڈی شاہراہ جام گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں، عوام پریشان انتظامیہ اور مشتعل مظاہرین کے درمیان دن بھر آنکھ مچولی کا کھیل چلتا رہا مشتعل مظاہرین نے دالبندین پولیس اسٹیشن کے سامنے بھی مظاہرہ کیا گیا، اور نعرے بازی کی گئی، ہمارے تمام گرفتار ساتھیوں کو فورا رہا کیا جائے دوسری جانب تاجر برادری مسلسل دکانیں اور سڑکیں بند کرنے سے سخت پریشان نظر آئے شہر کی مسلسل بندش سے لوگوں کے روزمرہ استعمال ہونے والے اشیاءخوردونوش بھی ختم ہوگئے ادھر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما ﺅں نے کہا کہ ہمارا مشتعل مظاہرین سے کوئی واسطہ نہیں ہے ہماری مرکزی کال تین دن کی تھی اور ہم پر امن احتجاج کرتے رہے ہیں، ضلعی انتظامیہ نے مشتعل مظاہرین کو کنٹرول نہ کرنے اور بے بس دکھائی دینے پر انتظامیہ کی کارکردگی پر عوامی حلقوں اور تاجر برادری نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا مسلسل پانچ روز سے شہر کو بند رکھنا لوگوں کے ساتھ ظلم اور نا انصافی ہے ہڑتال کی بھی ٹائم ٹیبل ہوتا ہے اس طرح نہیں ہے کہ پانچ روز سے مکمل شہر اور شاہراہ کو بند رکھا گیا اور دوسری طرف شاہراو¿ں کو بند کرکے عوام کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔عوام حلقوں نے چاغی انتظامیہ اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ احتجاج کرنے والے مظاہرین سے بات چیت کرکے احتجاج کو فورا ختم کریں اور اور پاک ایران شاہراہ اور دونوں اطراف بائی پاس کو عام آدمی اور ٹرانسپورٹروں کے لئے کھلا جائے تاکہ مسلہ حل ہوں کیونکہ احتجاج سے زیادہ عوام متاثر ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں بلوچستان پولیس نے ملک کے خلاف نعرہ بازی ،سرکاری املاک کو نقصا ن پہنچانے روڈ بندکرنے پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مظاہرین کے خلاف 269معلوم اور 208نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی تفصیلات کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے اور دھرنوں کے خلاف سٹی تھانہ نوشکی نے 250معلوم اور 200نامعلوم افراد کے خلا ف آزاد بلوچستان کے نعرے لگانے کیساتھ مملکت پاکستان کے وجود اور سالمیت کے خلاف نعرے بازی اور پولیس ملازمین سمیت سرکاری گاڑیوں پر حملہ کرنے کا مقدمہ ایس ایچ او سٹی تھانہ نوشکی کی مدعیت میں درج کر لیا گیا گڈانی پولیس تھانے میں10افراد کے خلاف روڈ بند کرنے اور ہوائی فائرنگ ،پولیس پر پتھراﺅ کا مقدمہ ایس ایچ او گڈانی کی مدعیت میں درج کر لیا گیا تربت سٹی تھانے میں 09معلوم اور 08نامعلوم نقاب پوش مرد خواتین کے خلا ف راجی مچی میں شرکت کرنے کیلئے لوگوں میں پمفلیٹ تقسیم اور پاکستان کی سلامتی اور بغاوت انگیزی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ۔ بلوچستان پولیس نے ملک کے خلاف نعرہ بازی ،سرکاری املاک کو نقصا ن پہنچانے روڈ بندکرنے پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مظاہرین کے خلاف 269معلوم اور 208 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی تفصیلات کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے اور دھرنوں کے خلاف سٹی تھانہ نوشکی نے 250معلوم اور 200نامعلوم افراد کے خلا ف آزاد بلوچستان کے نعرے لگانے کیساتھ مملکت پاکستان کے وجود اور سالمیت کے خلاف نعرے بازی اور پولیس ملازمین سمیت سرکاری گاڑیوں پر حملہ کرنے کا مقدمہ ایس ایچ او سٹی تھانہ نوشکی کی مدعیت میں درج کر لیا گیا گڈانی پولیس تھانے میں10افراد کے خلاف روڈ بند کرنے اور ہوائی فائرنگ ،پولیس پر پتھراﺅ کا مقدمہ ایس ایچ او گڈانی کی مدعیت میں درج کر لیا گیا تربت سٹی تھانے میں 09معلوم اور 08نامعلوم نقاب پوش مرد خواتین کے خلا ف راجی مچی میں شرکت کرنے کیلئے لوگوں میں پمفلیٹ تقسیم اور پاکستان کی سلامتی اور بغاوت انگیزی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں