مستونگ میں گزشتہ ایک ہفتے سے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بند،صارفین پریشان
مستونگ(نامہ نگار)مستونگ سٹی و ملحقہ علاقوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کو بند کیا گیا ہے جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔آن لائن کلاسز لینے والے طالب علموں، کاروباری طبقوں سمت عام صارفین کو شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ایک فون کال کرنے کے لیئے بھی شہر سے 20 ، 25 کلو میٹر دور لکپاس یا کھڈکوچہ کی طرف جانا پڑتا ہے۔ انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے بینکنگ امور کی ادائیگی میں دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔بینکوں کے اے ٹی ایم غیر فعال ہونے سے ملازمین کو تنخواہوں کی حصول بھی ناممکن ہو گیا ہے۔ عوامی سماجی حلقوں نے کہا کہ مستونگ کی عوام کی فلاح وبہبود کے لیئے بلند بانگ دعوے کرنے والے ایک ہفتے سے مواصلاتی نظام بحال کروانے کے لیئے آواز تک نہیں اٹھا سکے تو ایسے نمائندوں سے ہم کیا امید کریں کہ وہ ہمارے بہتر کل کے لیئے کچھ کر سکیں گے۔عوامی حلقوں نے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ، وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ ہمیں مستونگ کے ایم این اے ، ایم پی اے صاحبان و ضلعی انتظامیہ سے خیر کی کوئی امید نظر نہیں آرہا آپ ہی مواصلاتی نظام کی بحالی کے لیئے فوری اقدامات اٹھائیں تاکہ مستونگ شہر کے عوام کو موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت میسر آسکیں۔


