سانحہ 8 اگست کوئٹہ کو 8 سال بیت گئے

کوئٹہ (انتخاب نیوز)کوئٹہ کے سول اسپتال میں وکلا ء پر ہونے والے خودکش بم دھماکے کو 8 سال مکمل ہوگئے ۔دھماکے میں شہدا کی 8ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔کوئٹہ کے سول اسپتال میں 8 اگست 2016 کو اس وقت خودکش بم دھماکہ ہوا تھا جب شہر کے علاقے اسپنی روڑ پر ٹارگٹ کلنگ میں شہید کئے گئے بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے مقتول صدر بلال انور کاسی کی میت ضروری کارروائی کے لئے سول اسپتال لائی گئی تھی۔ساتھی وکلاء کی اسپتال میں جمع ہونے کے بعد دھماکا ہوا تھا۔ خودکش حملے میں56وکلا سمیت 73افراد جاں بحق جبکہ سو سے زائد زخمی ہو ئے تھے۔سانحے نے بلوچستان کو56وکلا ءسے محروم کردیا ۔ ان میں30 سے زائد سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں رجسٹرڈ اور سینئر وکلا ء بھی شامل تھے۔ بڑی تعداد میں وکلاء کی شہادت سے صوبے میں شعبہ وکالت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ سانحہ میں شہید وکلا ء صوبے میں شعبہ قانون کاعظیم سرمایہ تھے۔ انہی میں سے اکثر سینئر وکلا ء کےمستقبل میں اعلیٰ اور ماتحت عدلیہ کے ججوں کے منصب پر فائز ہونے کے روشن امکانات بھی تھے۔سانحے کو 8 سال گزر گیا لیکن اس خون آلود سانحے کے دئیے ہوئے شہدا کے لواحقین کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔آج بھی بوڑھے والدین اپنے جوان سال بیٹے اوربہنیں اپنے بھائی کو یاد کررہی ہیں۔سانحے میں ننھے بچےبھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے شفقت پدری سے محروم ہوگئے ہیں۔ پولیس حکام کا یہ دعویٰ ہے کہ سانحہ سول اسپتال کے ماسٹر مائنڈ سمیت پانچ دہشت گردوں کورواں سال بلوچستان کے ضلع پشین میں پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تاہم واقعہ میں ملوث دو سہولت کاروں کی گرفتاری کیلئے پولیس سرگرداں ہے ۔سانحے پیش آتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ دیگر لوگ تو بھول جاتے ہیں مگر ان سانحوں سے متاثر ہونے والے انہیں کبھی نہیں بھلاسکتے۔جیسے سانحہ سول اسپتال میں خودکش حملے میں شہید وکلاء کے لواحقین کی حالت ہے۔ادھروکلاء رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ اب ان کے شہیدساتھی تو واپس نہیں آسکتے لیکن مزید گھر اجڑنے سے پہلے،بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہونے سے پہلے اور بوڈھے والدین کا واحد سہارا ان سے چھین جانے سے پہلے ایسے واقعات کی روک تھام ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں