تخریب کاری کو ہوا دینے والے اسباب کا سدِ باب کرنا ہوگا، صدر زرداری
اسلام آباد (صباح نیوز)صدر آصف علی زرداری نے متاثرین ِتخریب کاری کی یاد اور انہیں خراج ِتحسین پیش کرنے کے عالمی دن کے موقع پر پیغام میں کہا ہے کہ ہم تخریب کاری کے تمام متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بہادر اہلکاروں کو بھی خراج ِعقیدت پیش کرتے ہیں ۔ یہ دن ہمیں تخریب کار عناصر کے ہاتھوں اپنے پیاروں کو کھو دینے والے تمام خاندانوں کے درد اور تکالیف کی یاد بھی دلاتا ہے۔” متاثرین ِتخریب کاری بطور امن کے علمبردار اور معلم” کا اس سال کا موضوع یہ امر اجاگر کرتا ہے کہ زندہ بچ جانے والے افراد امن کے فروغ اور پرتشدد انتہا پسندی کے تباہ کن اثرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔تخریب کاری کے خلاف دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے مسلسل جاری جنگ کی پاکستان نے بھاری قیمت چکائی ہے۔ ہم نے اپنے ہزاروں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو کھودیا۔ پاکستان کی سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی تخریب کاروں نےقتل کیا۔ ملک کے متعدد سیاسی اور مذہبی رہنما بھی تخریب کاروں کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تخریب کاری نے ملکی معیشت کو بھی اربوں ڈالر کا مالی نقصان پہنچایا ۔ پاکستان مخالف قوتیں تخریب کاری کی حمایت ، خفیہ طور پر مالی معاونت ، اور پاکستان میں تخریب کاری کی کاروائیاں انجام دینے کے لیے عسکریت پسند بھیج رہی ہیں۔ہماری قوم نے ان چیلنجوں کے مقابلے میں بے مثال عزم اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے کامیابی سے تخریب کار قوتوں پر قابو پایا اور دو دہائیوں سے یہ جنگ تنہا لڑ رہا ہے۔ ہماری کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے، اور ہم بین الاقوامی انسدادِ تخریب کاری کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ آج بھی ہماری بہادر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تخریب کار عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور قوم کی امن و سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ فوجی آپریشنز جیسے حربی اقدامات سے متعدد تخریب کار نیٹ ورکس کو کامیابی سے ختم کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، قومی ایکشن پلان، تخریب کاری اور انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کے قومی بیانیہ اور دیگر سماجی و اقتصادی ترقیاتی منصوبوں جیسے غیر حربی اقدامات سے تخریب کاری کے خلاف کمیونٹی کی صلاحیت کو مستحکم کیا گیا ہے۔آج ، ہم تخریب کار عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ ہمارا بنیادی مقصد عوام کی حمایت سے تخریب کاری کا مکمل خاتمہ اور ملک کے لیے ایک پرامن مستقبل کا حصول ہے۔ ہمارا عزم غیر متزلزل ہے اور ہم متاثرین اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے پرعزم ہیں۔تخریب کاری ایک عالمی چیلنج ہے، جس کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کی اجتماعی کوششوں اور تعاون کی ضرورت ہے۔ ہمیں بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا ہوگا، انٹیلی جنس شیئرنگ کو بڑھانا ہوگا، اور انتہا پسندی اور تخریب کاری کو ہوا دینے والے بنیادی اسباب کا سدِ باب کرنا ہوگا ۔ مجھے یقین ہے کہ ہم سب مل کر کام کر کے سب کے لیے ایک محفوظ اور پرامن دنیا تشکیل دے سکتے ہیں۔


