چین اور بھارت کا ہمالیہ کے متنازعہ سرحد پر گشت کے معاہدے پر اتفاق
دہلی (مانیٹر نگ ڈیسک)بھارتی وزارت خارجہ کا کہا ہے کہ بھارت اور چین نے ہمالیہ خطے میں اپنی متنازعہ سرحد پر فوجی گشت سے متعلق ایک معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ پیشرفت دونوں ممالک کے مابین 2020 میں شروع ہونے والے طویل سرحدی تنازعے کے بعد سامنے ا?ئی ہے۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مصری نے کہا کہ یہ معاہدہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر فوجیوں کو ہٹانے کی جانب لے جائے گا، جو کہ ان دونوں ایشیائی ممالک کے درمیان ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے پر واقعہ مشترکہ سرحد ہے۔مصری نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس کا مطلب یہ ہے کہ 2020 میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان جھڑپ کے بعد شمالی لداخ کے علاقے میں ان کی متنازعہ سرحد پر تعینات دسیوں ہزار اضافی فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔ بیجنگ کی جانب سے اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ مصری نے کہا، ”یہ معاہدہ بھارت اور چین کے سفارتی اور فوجی مذاکرات کاروں کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کئی ادوار کی بات چیت کا نتیجہ ہے اور یہ کہ 2020 میں ان علاقوں میں، جو مسائل پیدا ہوئے تھے یہ آخر کار انہیں ایک حل کی طرف لے جائے گا۔“نئی دہلی کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے، جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی برکس اجلاس میں شرکت کے لیے ماسکو جا رہے ہیں، جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات متوقع ہے۔


