نیکٹا نے ما ہ رنگ اورصبغت اللہ بلوچ کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کردیا
کوئٹہ (انتخاب مانیٹر نگ ڈیسک ) نیکٹا نے ڈاکٹر ما ہ رنگ بلو چ اور شاہ جی صبغت اللہ بلوچ کے نام کو باقا عدہ طور پر فورتھ شیڈول میں شامل کر دیا ہے۔ بلو چ یکجہتی کمیٹی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان جار ی کر تے ہو ئے کہا کہ ریاست پاکستان بغیر کوئی ٹھوس ثبوت فراہم کیے بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قوانین کا کھلے عام استعمال کر رہی ہے۔پرامن سول اور سیاسی سرگرمی کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ رہا ہے جو واضح طور پر ایک نوآبادیاتی عمل کے ساتھ ساتھ نسلی امتیاز بھی ہے۔ اس طرح، ریاست کارکنوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور سینکڑوں بلوچ اور پشتون رہنماو¿ں، سیاسی کارکنوں، اساتذہ، طلباءوغیرہ کو ’ممنوعہ افراد کی فہرست‘ میں شامل کر چکی ہے۔ فہرست میں شامل ہونے کی وجہ سے، ایک شخص کو اس کے بنیادی حقوق جیسے تحریک، تقریر اور اظہار کی آزادی، انجمن، رازداری، اور ملازمت اور پیشے کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے، جس کی ضمانت آئین اور بین الاقوامی قانون نے دی ہے۔ حال ہی میں ریاست نے بلو چ یکجہتی کمیٹی کے رہنماو¿ں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ بلوچ کے ناموں کو کالعدم افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے ۔نیکٹا کا نام نہاد فورتھ شیڈول جو بلوچ نسل کشی کے خلاف بلوچستان میں اس کی سیاسی سرگرمی کے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ ڈاکٹرماہرنگ اب ایک عالمی کارکن ہیں جو بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں جیسے جبری گمشدگیوں اور قانون نافذ کرنے والی اداروں کے ذریعے کیے جانے والے ماورائے عدالت قتل کے خلاف پرامن سرگرمی کے لیے مشہور ہیں۔
واضح رہے کہ بلوچستان حکومت نے گزشتہ ماہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درجنوں افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کر دیے ہیں۔انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت فورتھ شیڈول میں نام شامل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ شخص کی کسی کالعدم تنظیم سے بالواسطہ یا بلاواسطہ وابستگی ہو تو ایسے افراد پر عائد کی جانے والی پابندیوں میں پاسپورٹ پر پابندی، بینک اکاو¿نٹس کا منجمد ہونا، مالی معاونت اور کریڈٹ پر پابندی، اسلحہ لائسنس پر پابندی، اور ملازمت کے کلیئرنس کی پابندیاں شامل ہیں۔


