جمعیت علماء اسلام مدارس کا مقدمہ لڑ رہی ہے اور جیت کا دم لے گی ، مولانا واسع
کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیرسینیٹر مولانا عبدالواسع کہا ہے کہ مدارس سے منسلک علماء و طلباء سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ مدارس کے خلاف کتنے مضموم منصوبے ترتیب دیے جاتے ہیں ،روزانہ کی بنیاد پر مدارس کو مختلف حیلوں بہانوں سے تنگ کرنے کی خبر یں آتی ہیں، مدارس کی تکریم ،آزادی اور حریت کا اہم مقدمہ جمعیت علماء اسلام ایوانوں میں لڑھ رہی ہے ضرورت پڑی تو ہم میدان میں بھی اتریں گے۔یہ بات انہوں نے جامعہ مظہرالعلوم شالدرہ کوئٹہ ، مدرسہ عربیہ احسان العلوم قلعہ عبداللہ کی سالانہ دستار فضیلت کانفرنسز سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ چھبیسویں اپنی ترمیم میں تمام باقی قوانین پر کسی کو اعتراض پیش نہیں آیا لیکن مدارس کے بل پر اعتراض لگاکر واپس کردینے سے تمام معاملات واضح ہوگئے ہیںکہ جمعیت علماء اسلام کتنی اہم ہے ،ہم واضح انداز میں کہتے ہیں کہ اس وقت تک جمعیت علماء اسلام کی قیادت چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک مدارس کا مقدمہ نہیں جیت جاتے ۔ انھوں نے جامعہ کے فارغ تحصیل طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ بات خوب اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ ہماری تمام تر علمی ودینی کاوشوں اور محنت و ریاضت کا بارگاہ رب العزت میں شرف قبولیت سے بہرہ ور ہونا ہمارے حسنِ عمل و اخلاص نیت پر موقوف ہے۔ اگر آپ اپنے اندر اخلاص و للہیت کی صفت پیداکرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں تو پھر یقین کرلیجئے کہ کامیابی و کامرانی کی کنجی آپ کے ہاتھ میں آگئی ہے اور گوہر مقصود آپ کے قبضہ میں ہیں۔ انھوں نے مزید کہا طلباء بغیرکسی خوف و اندیشہ کے تعمیر وترقی کے میدان میں اتر جائیں کیونکہ اخلاص کی مضبوط و مستحکم بنیاد پر جو عمارت بھی قائم کی جائے گی وہ انشاء اللہ استوار و پائیدار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ فارغ التحصیل طلباء انتہائی خوش قسمت ہیں کہ مالک کائنات نے انہیں کو وارثین انبیاء کی صف میں شامل کردیا ہے، انسانی مقام ومرتبہ پر نبوت سے بالا وبلند تر کوئی مقام ودرجہ نہیں ہے۔ اس لئے لازمی طورپر وراثت نبوت سے بڑھ کر کوئی وراثت ہوہی نہیں سکتی۔ یہ آپ کی انتہائی سعادت مندی و نیک بختی ہے کہ رب العالمین نے اس عظیم ترین وراثت کے لئے آپ کاانتخاب فرمایا ہے، اس لئے ہرگز ہرگز مایوسی واحساس کمتری کا ادنیٰ تصور بھی دل و دماغ کے گرد بھٹکنے نہ پائے۔


