تشدد اور انتہاپسندی کے حامی نہیں ،تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، شبلی فراز
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا ہے کہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائےم تشدد اور انتہاپسندی کے حامی نہیں۔اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان سے لے کر تمام ورکرز کو سیاسی مقدمات میں الجھایا گیا ہے، ہم پرامن جماعت ہیں اور کسی قسم کے تشدد اور انتہاپسندی کے حامی نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم تمام غیر جمہوری طور طریقوں کی مذمت کرتے ہیں، یہ ملک آئین کی بنیاد پر چلنا چاہیے، حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اس تاثر کو رد کرنا چاہتے ہیں کہ عمران خان اپنے لیے گنجائش ڈھونڈ رہے ہیں، وہ پاکستان کی عوام کے لیے جیل کے اندر ہیں اور انہوں نے جو اصول مؤقف اپنایا ہوا ہے اس پر وہ قائم ہیں، جو بھی بات چیت ہوگی اسی تناظر میں ہوگی۔شبلی فراز کا کہنا تھا کہ عمران خان 500 سے زائد دن ہوگئے ہیں، وہ اپنی پوزیشن پر قائم ہیں، مذاکرات کی کامیابی اور ناکامی کی ذمہ دار برائے نام حکومت ہوگی، مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔رہنما پی ٹی آئی عمر ایوب کا کہنا تھا اس وقت پاکستان ٹائمز کا دور نہیں، یہ ایسا وقت ہے جہاں معلومات لوگوں تک پہنچ جاتی ہے، حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کی رفتار کے سست کرنے کے باوجود نوجوانوں تک انفارمیشن پہنچ جاتی ہے۔انہوں نے اپنے دور حکومت میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت کے اراکین کو اس وقت کی فوجی قیادت نے اعتماد میں لیا تھا، اسد قیصر نے قومی سلامتی کمیٹی کی صدارت کی تھی، جنرل (ر) باجوہ نے یہ بات کہی تھی کہ ہر ایک جنگ اور تنازعہ کا اختتام مذاکرات کے ساتھ ہوتا ہے، ہمارے دور میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، یوسف رضا گیلانی، بلاول بھٹو، خواجہ آصف بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔اسمگلنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی سرحد پر معاملات جن لوگوں کے ہاتھ میں ان سے ضرور سوال کیا جائے، ریاستی وسائل کو بروکار لاکر اسمگلنگ کا سدباب کیا جائے اور یہ صرف اس صورت ممکن ہوگا جب ادارے اپنا کام کریں گے۔عمر ایوب نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت میں ٹی ٹی پی کے ساتھ بات جاری ر کھی گئی، اس وقت کی عسکری قیادت اور حکومت نے مذاکرات کے جاری رہنے کی بات کی تھی۔9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہمارا بنیادی مطالبہ ہے کہ مذکورہ واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ وہ ڈی چوک 5 منٹ میں خالی کروائیں گے، انہوں نے یہ کام کیا لیکن وہاں پر نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیار استعمال کیے گئے۔


