قلات میں خواتین پر ہتھیار تھامے جمعیت کے امیدوارنے بندق استعمال کرنے کی جگہ پربندوقیں استعمال کیوں نہیں کئے؟ ضیا لانگو
کوئٹہ (آن لائن)میر ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ مولانا عبدالواسع زیرک سیاستدان اور بلوچستان کے سیاست میں اہم مقام رکھتے ہیں،قلات میں جمعیت علما اسلام کے امیدوار کے شدت پسندنہ اور بد اخلاقی کی وجہ سے انکی اپنی جماعت کی لوگوں نے لاتعلقی کا اظہار کیا،جوہان،گزگ،نرمک میں مختلف قبائل آباد ہےخواتین نے اپنے حق رائے استعمال کرنے کے لئے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا،جمعیت علما اسلام کے امیدوار نے 150 سے زائدلوگوںکے ساتھ پولنگ اسٹیشنز پر دھاوا بولا،مسلح افراد نے بھاری ہتھیاروں سے بلوچ روایات کو پامال کرتے ہوئے خواتین پر ہتھیار تھامے،پولنگ اسٹیشن پرمسلح افراد نے روایات کو پامال کرتے ہوئے خواتین کو ہاتھوں سے پکڑا کر باہر نکالا،خواتین کے درمیان بندوقیں اٹھانا بہادروں کا نہیں بزدلوں کا کام ہے، پولنگ کو چاروں اطراف سے مسلح افراد نے گھیرے میں لیا یہ کہاں کی روایات اور انسانیت ہے،مسلح جھتے نے سرعام غیریت مند بلوچوں کو دھمکیاں دی کہ میں بدمعاش ہوں جس نے میرے احکامات کو نہیں مانا سب کچھ ختم کردوں گا،جب بندقوں کی استعمال کا جگہ آئی تو وہاں ان عناصر نے اپنی بندوقیں استعمال کیوں نہیں کیں، مولانا واسع ایک غیرت مند اور عالم دن ہے، جمیعت علما اسلام کی قیادت گزگ،نرمگ اور جوہان میں خواتین کی بے عزتی کا نوٹس لے،مولانا واسع اپنے دہشت گردانہ امیدوار سمیت دیگر کے خلاف فوری کارروائی کرے،ایسے دہشت گردانہ عناصر کو جمعیت جیسے منساب اور علما کے پارٹی سے فوری نکالا جائے،ایسے عناصر کا اسلام، بلوچ اور پشتون روایات سے تعلق نہیں،ایسے دہشتگرد عناصر کی وجہ سے جمعیت علما اسلام کی میرے علاقے میں عزت میں کمی آرہی ہے،سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہم سیاسی جماعتوں اور علما کا احترام کرتے ہیں، قلات میں مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا عطا اللہ،مولانا صدیق شاہ ان سے ہم الیکشن میں شکست بھی کھا چکے ہیں،شکست کے بعد بھی تمام علما کرام سے بھائیوں اور اخلاق والا تعلق رکھا ہے،چند دہشت گرد عناصر سیاست میں شامل ہوگئے ہیں جنہیں نہ خواتین کی عزت کا احترام ہیں نہ ہی بزرگوں کا احترام کرتے ہیں،خواتین کے درمیان میں بندوقیں اٹھانا بہادروں کا نہیں بزدلوں کا کام ہے،


