بلوچستان میں دو یا تین فیصد لوگ ملک توڑنا چاہتے ہیں، فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں، سرفراز بگٹی

لاہور (انتخاب نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے میر خلیل الرحمان میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام بلوچستان کے مسائل اور ان کے حل کے موضوع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں دو یا تین فیصد لوگ ملک توڑنا چاہتے ہیں، ہمارے لیے اصل چیلنج علیحدگی پسند نہیں بلکہ بیانیہ ہے، میں ان خواتین کے ساتھ کھڑا ہوں جن کے بیٹوں اور شوہروں کو بسوں سے اتار کر مارا گیا۔ میں انسانی حقوق کے لبادے میں مخصوص ایجنڈے پر چلنے والی خاتون کے ساتھ کھڑا نہیں ہوں گا۔ ناراض بلوچ کی اصطلاح ہماری نہیں پنجاب کے کنیفیوزڈ دانشوروں کی ہے۔ بلوچستان میں وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں، انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کی ضرورت ہے وہ جاری رہے گا۔ ہمیں بلوچ طلبا کو پنجاب میں پڑھانے کیلئے ایک ارب روپے دیا جاتا تھا۔ پنجاب یونیورسٹی میں پنجابی، بلوچ، پٹھان، سندھ سب پڑھتے ہیں۔ ہم نے پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ، پٹھان، سندھی کونسلز بنا لیں۔ پیٹرول لیوی کا پیسہ بلوچستان کی سڑک پر لگنا خوش آئند ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں