پاکستان اور بھارت تحمل کا مظاہرہ کریں، تصادم دونوں کے مفاد میں نہیں ، چین

ویب ڈیسک :بھارت اور پاکستان کے بنیادی مفادات میں نہیں اور علاقائی امن اور استحکام کے لیے بھی سازگار نہیں، اور دونوں ممالک کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں اتوار کے روز پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ فون پر بات چیت کی۔ پاکستان کے قریبی اتحادی چین نے موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وانگ یی نے پاکستان کے لیے، خاص طور پر اس کی خود مختاری اور سلامتی کے مفادات کے تحفظ میں، چین کے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا،چین نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی پرعزم کارروائیوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے اور وہ پاکستان کے معقول سکیورٹی خدشات کو پوری طرح سمجھتا ہے۔‘‘وانگ یی نے پہلگام حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ چین جملہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی طرح کا تصادم بھارت اور پاکستان کے بنیادی مفادات میں نہیں اور علاقائی امن اور استحکام کے لیے بھی سازگار نہیں، اور دونوں ممالک کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، ایک دوسرے سے آدھے راستے پر ملنا چاہیے اور حالات میں بہتری کو فروغ دینا چاہیے۔‘‘انہوں نے کہا،دونوں فریقوں کو آگے بڑھ کر ایک دوسرے سے ملنا چاہیے اور صورتحال کو سرد کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘‘خیال رہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے حملے نے بھارت اور پاکستان کے درمیان تناؤ میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ بھارت نے اپنے پڑوسی ملک کے خلاف متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں سندھ آبی معاہدہ معطل کرنا اور اٹاری میں واحد آپریشنل زمینی سرحدی کراسنگ کو بند کرنا بھی شامل ہیں جب کہ پاکستان نے اپنی فضائی حدود کے استعمال پر دہلی کے لیے پابندی لگا دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں