ہمیں کسی خیرات کی ضرورت نہیں، پا نی کی تقسیم کو یکسر مسترد کرتے ہیں، محمود خان اچکزئی
کوئٹہ،صوابی(یو این اے) پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے صوابی میں عوامی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرگے کا مقصد قوم کو یکجا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وطن ہمیں خیرات میں نہیں ملا ہے بلکہ اس کے لیے ہمارے بڑوں نے قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پشتون قوم کے خلاف پروپیگنڈہ جاری ہے کہ وہ دہشتگرد ہے۔ ہمارا صوبہ ہر قسم کی نعمت سے مالا مال ہے، لیکن پانی پر سندھی اور پنجابی کا جھگڑا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم آئی ایم ایف کے قرضدار ہیں، اب وسائلوں پر قبضہ کرکے آئی ایم ایف کا قرضہ اتاریں گے۔محمود خان اچکزئی نے سوال اٹھایا کہ ہمیں دکھایا جائے کہ آئی ایم ایف نے اب تک کتنا قرضہ دیا ہے اور یہ پیسہ خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں کتنا لگایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی خیرات کی ضرورت نہیں، پنجاب والوں کے پاس اگر کچھ ہے تو اس میں ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دنیا کے تمام تر وسائل موجود ہیں۔ یہ حکومت کس طرح آئی ہے کسی کو سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پانی کی تقسیم میں 50 فیصد پنجاب، 38 فیصد سندھ، 8 فیصد خیبرپختونخوا اور 3 فیصد بلوچستان کو دیا جا رہا ہے، یہ جرگہ اس تقسیم کو بالکل مسترد کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان بطور قوم یکجا ہو، لیکن وہ تب ہوگا جب یہاں سب کو برابر حقوق ملیں گے۔ پاکستان میں سب سے بڑی دہشتگردی 8 فروری کو ہوئی جب بندوق کے زور پر لوگوں سے ووٹ کا حق چھینا گیا۔اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ ملک کا سرچشمہ ہونا چاہیے، سب کو مل کر آئین کے اندر کام کرنا چاہیے۔ افواج پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت کریں گے تو ملک کبھی ترقی نہیں کرے گا۔ سینیٹ تو ہم نے بنا لی ہے لیکن ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، سینیٹ کو وہی اختیار دیے جاتے ہیں جو قومی اسمبلی کے پاس ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ جرگے اس لیے شروع کیے ہیں کہ افواہیں آ رہی ہیں کہ وسائل کو قبضہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کو چلانے کے لیے اپنے وسائل دیں گے لیکن ہمیں بھی اتنا حصہ چاہیے کہ ہم اپنے مسافر نوجوانوں کو واپس لا سکیں۔ وزیراعلی کے پی کو چاہیے کہ خیبرپختونخوا میں بھی دریاں سے نہریں نکالے تاکہ ہماری زمینیں آباد ہو جائیں۔


