یہ دہشتگرد کسی چھائونی پر کیوں نہیں آتے؟سرفراز بگٹی
کوئٹہ (آن لائن) وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ڈیگاری واقعہ میں ملوث ملزمان کو انصاف کے کٹہرے اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی کیلئے کوئی دبائو برداشت نہیں کرتا پولیس نے قبائلی شخصیت سمیت 11 افراد کو گرفتار کیا ہے ڈیگاری واقعہ میں قتل ہونے والوں کا آپس میں کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا، دونوں پہلے سے شادی شدہ تھے اور دونوں کے پانچ پانچ بچے بھی تھے جو بھی ملزمان ملوث ہیں ان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، واقعہ کی فوری تفصیلات نہ دینے غفلت کا مظاہرہ کرنے پر علاقے کا اسپیشل برانچ کا ڈی ایس پی معطل کردیا گیا ہے،ایک سال کے دوران 300خطرناک دہشتگردہلاک کیے اور درجنوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو وزیراعلی سیکرٹریٹ میںپریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزرا،ارکان اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی،مینا مجید، حاجی علی مدد جتک، ربابہ بلیدی، حاجی محمد خان طور اتمانخیل ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ وقبائلی امور بلوچستان محمد حمزہ شفقات، کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب کاکڑ بھی موجود تھے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈیگاری میں پیش آنے والا واقعہ انسانیت کا قتل اور جہالت کی انتہاہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہورہا ہے اور لوگ اس واقعے کی اصل حقیقت کو جاننا چاہتے ہیں، سوشل میڈیا پر ایسی خبریں چل رہی ہیں کہ یہ نیا شادی شدہ جوڑا تھا لیکن وہ سب کو بتادیں کہ ان دونوں کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں تھا، اس واقعے میں جس لڑکی کا قتل ہوا ہے اس کے پانچ بچے ہیں اور اس کے شوہر کا نام نور ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی صورت متاثرین پر الزام تراشی نہیں کریں گے قانون کے مطابق مقتولین کو انصاف فراہم کیاجائیگا۔انہوں نے کہا کہ قانون کسی کے بھی قتل کی اجازت نہیں دیتا متعلقہ علاقے کے ڈی ایس پی اسپیشل برانچ کو غفلت برتنے پر معطل کردیا گیا ہے ۔اب تک واقعہ میں ملوث ایک قبائلی سردار سمیت 11افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے معاشرے میں قبائلی سردار کی عزت ہوتی ہے مگر ہم نے ایک منٹ کی بھی تاخیر کیے بغیر کاروائی کی ہے انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر متاثرہ خاندانوں کی جانب سے کی جاتی ہے تاہم وہ مدعی بننے کو تیار نہیں تھے جس پر حکومت نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کیا ہے اب جب پولیس تفتیش کرنے کے لیے جارہی ہے تو مرد سارے گھروں سے بھاگ چکے ہیں، جب کہ خواتین گھروں سے باہر نکل کر پولیس پر پتھرائو کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا جو کہ کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے، اس بات کی نہ معاشرہ اجازت دیتا ہے نہ ہی حکومت اور قانون اجازت دیتا ہے اور حکومت ملزمان سے تھوڑی سی بھی نرمی نہیں برتے گی۔صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن ایک سال کے دوران صوبے میں 300انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک کیے گئے ہیں گزشتہ حکومت میں 5سے 6 سال دہشتگردوں کو بلوچستان میں بھی پھیلنے پھولنے دیا گیا جس کے بعد انہوں نے اپنی حکمت عملی سمیت دیگر معاملات کو مضبوط بنایاہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشتگرد سافٹ ٹارگٹ ڈھونڈتے ہیں چند منٹ میں کاروائی کر کے ویڈیو بنا تے اور کہتے ہیں کہ انہوں نے قبضہ حاصل کیا ہے یہ دہشتگرد کسی عسکری تنصیب یا چھائو نی پر کیوں نہیں آتے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب سوراب میں 7منٹ میں فورسز نے جوابی کاروائی کی جس کے بعدد ہشتگردزخمی ہو کر بھاگ نکلے ۔انہوں نے کہا کہ جلد ہی امن وو امان پر علیحدہ پریس کانفرنس بھی کرونگااور حقائق سامنے لائوں گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جن سردار وں نے ڈیگاری واقعہ پر کاروائی پر بیان دیا ہے اسکا جواب نہیں دونگاکیونکہ تمام سردار قابل احترام ہیں میں کسی کے دبائو میں نہیں آتا جو قانون و آئین کا راستہ ہے وہ ہم لیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کئی کئی دن کے دھرنوں، سڑکوں کی بندش سمیت دیگر وعدوں پر بغیر کسی دبائو میں آکر کاروائی کی اور عوام کو ریلیف دیا ۔ انہوں نے خواتین ارکان کابینہ کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ خواتین کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی نشاندہی کریں تاکہ بہتر قانون سازی کے لئے ترامیم کی جاسکیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہا کہ گزشتہ روز سیکورٹی فورسز نے بروقت کاروائی کر کے قلعہ عبداللہ میں مورچہ بند قبائل کے درمیان لڑائی رکوائی اگر حکومت ایسا نہ کرتی تو اموات کی تعداد بڑھ سکتی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کرنے پر اے این پی کے پارلیمانی لیڈر نے میرا شکریہ ادا کیا ہے البتہ اے این پی کے صوبائی صدر کا بیان حیران کن ہے ۔ ان کی اپنی جماعت نے بروقت کاروائی پر سوشل میڈیا پر میرا او حکومت کا شکریہ اداکیا ہے ۔


