ایران بارڈر سے کوئی دہشتگردی یا تخریب کاری نہیں ہورہی، بندش سے لوگوں کا روزگار متاثر ہورہا ہے، نیشنل پارٹی
پنجگور (آن لائن) نیشنل پارٹی ضلع پنجگور کے سابقہ ضلعی صدر حاجی صالح محمد بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے پاکستان میں جتنی بھی قومیں بستی ہیں یہ سب کا ملک ہے پاکستان کے آئین اور منشور میں سب کے حقوق برابر اور تمام اقوام کو برابری کی بنیاد پر حقوق حاصل ہیں لیکن ریاست پاکستان میں جتنے بھی ممالک کی سرحدیں ملتی ہیں وہاں کے عوام کی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا گیا ہے، پچھلے 40 سال سے بلوچستان کے مغربی سرحد بالخصوص مکران کے عوام جو ایران بارڈر سے اشیا خوردنوش اور پیٹرول، ڈیزل گیس سلنڈر لاکر اپنے چولہے جلاتے ہیں جب سے سابقہ اور موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اقتدار سنبھالا ہے انہوں نے بلوچستان کے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ایران بارڈر پر نت نئے پابندیاں لگا کر بلوچستان بالخصوص مکران کے عوام کی منہ سے نوالہ چھیننے کی کوشش کررہا ہے، ایرانی بارڈر سے کوئی دہشت گردی یا تخریب کاری نہیں ہورہی، بلکہ ہمارے لوگ محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں اب جبکہ پچھلے 7 سال سے پاکستانی حکومت نے بارڈر پر تمام راستوں پر باڈ اور رکاٹیں ڈال کر اشیا خورونوش اور تیل کی ترسیل بند کردی گئی ہے اور اندرون ملک سے بھی قابل ذکر اشیا خورونوش پیٹرول اور ڈیزل بھی لانے کے لئے عوام کو سزا کے طور پر سپلائی نہیں کیا جارہا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نہ صرف مکران کے عوام کو بھوکا مارنے کی سازش ہے بلکہ مملکت پاکستان کے خلاف ایک گہری سازش ہے تاکہ بلوچستان بالخصوص مکران کے عوام اپنے ملک کیخلاف مزید نفرت کرتے رہیں۔ بارڈر پر سختی سے اس وقت ہمیں بہت سی مشکلات درپیش ہیں حاکم وقت سے گزارش ہے کہ وہ مکران کے عوام کے روزگار پر قدغن لگانے کے بجائے فوری طور پر اس ناانصافی کا نوٹس لے کر ہمیں باعزت پاکستانی شہری کے طور پر تمام انسانی ضروریات زندگی فراہم کریں بصورت دیگر بحیثیت زندہ انسان ہمیں بھی جینے کا حق حاصل ہے، جانور نہیں ہیں، اپنے حقوق کے لیے مر مٹنے اور احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔


