بلوچستان میں بسوں کی آمدو رفت کے اوقات کار کے باعث مسافر شدید اذیت میں مبتلا ہیں، نیشنل پارٹی
تربت ( نمائندہ انتخاب) نیشنل پارٹی ضلع کیچ کے ترجمان نے تلار چیک پوسٹ کی ناروا سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ تلار چیک پوسٹ پر گزشتہ شب درجنوں بسوں اور سینکڑوں مسافروں کو رات بھر روکے رکھا گیا کہ وہ وقت پر پہنچ نہیں پائے جبکہ اوتھل میں بھی بسوں کو مسافروں کے ساتھ صبح 10 بجے سے دن 2 بجے تک روکے رکھا جس کی وجہ سے بس بروقت تلار چیک پوسٹ پر نہ پہنچ سکے جس کی پاداش میں تلار چیک پوسٹ پر بسوں کے مسافروں کو رات 9 بجے روکا گیا جس کی وجہ مسافر جن میں بیمار، بچے، بوڑھے اور خواتین شامل تھے شدید تکلیف اور اذیت میں مبتلا رہے، مسافر پیاس اور بھوک کی وجہ سے ساری رات تڑپتے رہے اور صبح 6 بجے مسافروں کو جانے کی اجازت دی گئی ، انہوں نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ کیچ کی جانب سے تمام ٹرانسپورٹ والوں کو نوٹس جاری کیا گیا ہے کہ وہ شام 6 بجے تک تلار چیک پوسٹ پر پہنچ جائیں ورنہ اُنہیں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، یہ ذرا سوچنے کی بات ہے کہ کراچی سے بس صبح 9 بجے نکلتی ہے اور ہنگول، پھور ندی اور بدوک چیک پوسٹ پر انٹری کیلئے روکا جاتا ہے جبکہ نماز اور کھانے کیلئے رکنا الگ ہے اِس کے علاوہ گاڑی مشینری راستے میں کوئی خرابی بھی ہو سکتی ہے اس صورت حال میں اگر بس 140 کی اسپیڈ سے بھی آئے تو بھی شام 6 بجے تک تلار پہنچنا مشکل ہوتا ہے جو کہ انتہائی رسک ہے اس طرح کی غیر انسانی عمل سے ریاستی ادارے عوام میں ریاست کی خدمت نہیں بلکہ ریاست کے خلاف نفرت کو بڑھاوا دے رہے ہیں نیز حال ہی میں ڈی بلوچ میں بھی ایک غیر قانونی ٹول پلازہ قائم کیا گیا ہے لوگوں بلا جواز تنگ کر رہا ہے لہٰذا نیشنل پارٹی تلار چیک پوسٹ کے ذمہ داراں کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اپنی اس طرح کی عوام دشمن رویہ کو ترک کریں بصورت دیگر عوام کی تکالیف کو مد نظر رکھتے ہوئے نیشنل پارٹی اس کے خلاف بھر پور رد عمل کا مظاہرہ کرے گی، انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ تلار چیک پوسٹ پر بسوں کی آمد کا وقت شام 6 بجے کے بجائے رات 9 بجے مقرر کی جائے اور ڈی بلوچ کے غیر قانونی ٹول پلازہ کا خاتمہ کرکے لوگوں کو تکلیف سے نجات دلایا جائے۔


