قومی مالیاتی کمیشن کی ازسر نو تشکیل اور قومی اکائیوں کے حصے میں کمی کی تیاریاں آئین سے دشمنی ہے، نیشنل پارٹی
کوئٹہ (آن لائن) نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے وفاقی حکومت کی جانب سے قومی مالیاتی کمیشن کی ازسرنو تشکیل اور قومی اکائیوں کے حصے میں کمی کی تیاریوں کو آئین دشمنی اور اٹھارہویں ترمیم پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کیخلاف بھرپور عوامی و سیاسی مزاحمت کی جائے گی۔ ترجمان نے کہا کہ ملک کی سیاسی و جمہوری قیادت کی بصیرت اور جدوجہد کے نتیجے میں 1973 کا آئین تشکیل پایا، جبکہ آمریتوں کے خلاف سخت جدوجہد کے بعد 2009 میں اٹھارہویں ترمیم کا تاریخی مرحلہ طے کیا گیا۔ اس ترمیم نے قومی اکائیوں کے اختیارات میں اضافہ کیا، آمریت کا راستہ روکا اور نئے این ایف سی ایوارڈ کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔بیان میں کہا گیا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبوں کے مالی اور انتظامی اختیارات میں مزید اضافہ کیا جائے، مگر بدقسمتی سے اٹھارہویں ترمیم کے بعد سے ہی اسے رول بیک کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں تاکہ وفاقی اختیارات بڑھا کر قومیتوں کے وسائل پر قبضے کو جاری رکھا جائے۔ترجمان نے کہا کہ حکمران طبقہ اپنی نااہلی اور کرپشن کو چھپانے کے لیے صوبوں کے حصے پر شب خون مارنا چاہتا ہے، جو کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جائے گا۔ صوبوں کے حصے میں کمی ترقیاتی عمل کو مفلوج اور عوامی فلاح کو شدید متاثر کرے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو رول بیک کرنے کی کوئی بھی سازش برداشت نہیں کی جائے گی اور اس کے خلاف بھرپور عوامی و سیاسی مزاحمت کی جائے گی۔


