دیامر، شاہراہ قراقرم پر جی بی اسکاوٹس کی چوکی پر حملہ میں 3اہلکار زخمی، دودم توڑ گئے
دیامر کے ایس ایس پی عبد الحمید کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے چلاس کے قریب ایک بلند پہاڑی چوٹی سے قراقرم ہائی وے پر قائم اسکاو¿ٹس کی چیک پوسٹ پر جمعہ کی شب 12 بج کر 15 منٹ پر فائرنگ کی، اس دوران 3 اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 2 بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ ہوگئے۔جاں بحق افراد میں نائب صوبیدار خوش داد اور حوالدار اشرف شامل ہیں، جبکہ لانس نائیک ساجد علی کو پیٹ میں گولی لگی ہے اور وہ زیرِ علاج ہیں۔فائرنگ کے وقت چیک پوسٹ پر مجموعی طور پر 9 اہلکار موجود تھے، پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے 2 دستی بم اور 10 خالی خول برآمد ہوئے جبکہ چیک پوسٹ پر 17 گولیوں کے نشانات پائے گئے، دہشتگرد فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے۔پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے دستے فوری طور پر موقع پر پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا، زخمی اہلکار کو ریجنل ہیڈکوارٹر ہسپتال چلاس منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ شمس الحق لون نے کہا کہ دہشت گردوں نے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر حملہ کیا، انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں، علاقے کو سیل کرکے سرچ آپریشن وسیع کردیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس حملے سے متعلق کوئی پیشگی انٹیلی جنس اطلاع موجود نہیں تھی۔گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بتایا کہ وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کا سراغ لگانے اور گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں، ترجمان نے حملے کو انتہائی بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔یہ واقعہ اسی علاقے میں پیش آیا جہاں دسمبر 2023 میں اسلام آباد جانے والی ایک بس پر فائرنگ سے 10 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے تھے، اس کے بعد 2 دسمبر 2023 کو یہاں اسکاوٹس کی چیک پوسٹ قائم کی گئی تھی۔رواں سال 21 جولائی کو بھی دیامر میں قراقرم ہائی وے پر مسلح افراد نے ایف سی کے ایک اہلکار کو شہید کر دیا تھا۔


