دہشت گردی سے سیاست اور پرامن سیاسی جماعتوں کو دبایا نہیں جاسکتا، ڈاکٹر مالک بلوچ
تربت (بیورو رپورٹ) ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ سردار اختر مینگل کے لانگ مارچ میں بھی خودکش حملہ کیا گیا تھا اور یہ ایک نیا طریقہ کار ہے کہ سیاسی جماعتوں کو محدود کیا جائے تاکہ وہ اپنی سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکیں۔ معاشرے میں برداشت ختم کی جارہی ہے، سیاسی جماعتوں کے لیے اسپیس ختم اور سماج دشمن عناصر کو اسپیس پیدا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں سیاسی کارکنان کی شہادت سیاسی جماعتوں کے لیے بڑا صدمہ ہے۔ اتنے سیاسی کارکنوں کی شہادت رنج و غم کا باعث ہے جس نے ہم سب کو سوگوار کردیا ہے ہم شہدا اور زخمی کارکنان کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اعلان کیا کہ نیشنل پارٹی اس سانحے پر تین روزہ سوگ منائے گی اور 14 ستمبر کو حب میں ہونے والا جلسہ ملتوی کردیا گیا ہے نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام جمہوری قوتیں جو آئین اور پارلیمان کی بالادستی پر یقین رکھتی ہیں، بند گلی میں دھکیلی جارہی ہیں۔ سیاسی کارکنوں کو شہید کرنا قابلِ مذمت ہے، اس طرح کے حربوں سے سیاسی جدوجہد کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی سے سیاست اور پرامن سیاسی جماعتوں کو دبایا جاسکتا ہے یہ ان کی بھول ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہوگا اور کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس میں آج جو فیصلہ ہوگا نیشنل پارٹی اس کی مکمل پابندی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر اس سے برے اور مشکل وقت بھی آئے ہیں مگر ہم نے نہ اپنی جدوجہد چھوڑی ہے اور نہ ہی اپنے سیاسی نظریہ سے انحراف کیا ہے۔ اس موقع پر نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما کہدہ اکرم دشتی ، مرکزی فنانس سیکرٹری حاجی فدا حسین دشتی ، لالا رشید دشتی ، ملا برکت بلوچ ،حمل بلوچ ، ڈاکٹر محمد نور ، بلخ شیر قاضی ، ناظم الدین ایڈووکیٹ ، محمد جان دشتی ، ضلعی صدر یونس جاوید دشتی سمیت دیگر رہنما اور کارکنان کی کثیر تعداد موجود تھی۔


