محکمہ ایگری کلچرل انجینئرنگ کے نئے ڈائریکٹر جنرل نے عہدہ پیسوں کے ذریعے خریدا ہے، پاکستان ورکرز فیڈریشن بلوچستان

پریس ریلیز : جنرل سیکر ٹری پاکستان ورکرز فیڈریشن بلوچستان ریجنثناہ الحق نے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ محکمہ ایگری کلچرل انجینئرنگ کے نئے ڈائریکٹر جنرل نے عہدہ پیسوں کے ذریعے خریدا ہے اور اب صرف کرپشن کے لیے یہ سیٹ استعمال کر رہا آپ جناب کی خدمت میں عرض گزارش ہے کہ محکمہ زرعی انجینئر نگ کے کھڑی مشینری کو ان روڈ کرنے کے لیے گور نمنٹ اف بلوچستان نے تین کروڑ سے زائد رقم 25/2024 کے مالی سال ماہ جون میں 2025 میں بھاری رقم کے دولت براجمان زرعی انجنیرنگ ڈی جی کی مشینری کے مرمت کے رقم کو فیلڈ افسران سے انڈنٹ سے لیکر بندر بانٹ کیا گیا ورکشاپس میں کوئی مشین مرمت نہیں کیا گیا ان گرونڈ کوئی مشینری مرمت نہیں ہوئی اس طرح مشینری کے خرابی کا بہانہ بنا کر پی او ایل کے مد میں زمینداروں سے کروڑوں کار تم ڈی جی کے جیب میں جا رہا ہے سسٹم کا بہانہ بنا کر رقم کا 25 فیصد ہڑپ کر رہا ہے نچلی سطح پر جاکر ہماری زمینداروں کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا ون مین شو کے ذریعے محکمہ ہذا کو نیلامی کے قریب پہنچا دیا ہے نئے بلڈوزروں کا D6K2 جن کا خرچہ کم اور کار کردگی بہتر تھا عرصہ دراز سے بند . کھڑے ہیں جن کی اعلی سطح چیکنگ سے اصل حقیقت واضیح K2. D6 کرپشن واضح ھو گی جس سے مخصوص لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے مزید کہاہے کہ ہر دوماہ کے بعد ڈیزل کی بہت کے نام فائنس کا بہار لوٹ سے 23 کروڑ روپے نکالے جاتے ہیں۔ ان 23 کروڑ رو پے میں سے ڈائریکٹر جنرل زبر دستی 20 سے 25 فیصد حصہ انہ کے طور پر تمام انگر لیکچر انجینرز سے وصول کرتا ہے۔ یہ کٹوتی بعد میں انجینئرز اپنے اپنے ضلع کے بہت سے کانتے ہیں، جس کا ہر اور است اثر غریب کسانوں اور محلے کے پہلے محملے جیسے ڈرائیورز اور کلاس فور پر پڑتا ہے۔ جبکہ موجودہ ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ 19 گریڈ ہے اور ای جی کا عہدہ چونکہ 20 گریڈ ہے وہ اس وقت اوک اپٹر چارٹ میں جیتا ہے اور 20 گریڈ کے اختیارات ال لیگل استعمال کر رہا ہے۔ 2۔ محکمہ خدا میں حکام بالا کے خوشنودی کے لیے خالی اسامیوں کا اشتہار دے کر بڑھتی کا جعلی ڈھونگ رچایا جار ہائیں۔ اس کنوئی کو پورا کرنے کے لیے کسانوں سے زبر دستی ان کے وسائل پر ڈیزل استعمال کروایا جاتا ہے۔ غریب کسانوں کے ساتھ نا انصافی کرپشن کی وجہ سے ضلعوں میں غریب کسانوں کے کھیتوں پر بلڈوزر نہیں چلتے۔ صرف امیر کسان بلند وزیر کار یو نیو اور ڈیزل جمع کروا کے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یوں محلے کو ذاتی جائیداد سمجھ کر کسانوں کے حقوق پامال کیے جارہے ہیں۔ (3) ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی۔ سرکاری اثاثوں کی خورد برد لورالائی کے زراعی انجینئر نے ڈائریکٹر جنرل کے کہنے پر 3 کبو تاثر یکٹر ز اور 2 بلارس ٹریکٹر ز اسکریپ کر کے بیچ دیے۔ ان کا کوئی ریکارڈ سرکاری خزانے میں جمع نہیں کر وایا گیا۔ یعنی یہ بر اور است کرپشن ہو رہی ہیں۔ یہ تمام اقدامات ہمارے محکمہ کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے اور غریب کسانوں کے حق تلفی نہیں ہونے دینگے۔ ہم حکومت بلوچستان، اور جناب چیف سیکرٹری صاحب سے خصوصی توجہ چاہتے ہیں کہ اس بندر بانٹ کو روکنے میں کردار ادا کریںجبکہ محلہ زرعی انٹینز ہی بلوچستان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکتا ہے بلوچستان بلکہ پورے پاکستا کو فوڈ سیکورٹی فراہم کرتی ہے۔ جبکہ محکمہ زرعی انجینئرنگ میں تقریبا تین ہزار خاندانوں کا روزی مسلک ہے ۔ یہ کہ محکمہ ز بدحالی کا شکار ہے، اور ژوب سے لیکر گو اور تیک جتنی بھی مشینری ہے زمینداروں کیلئے زمین ہموار کرتی ہے، لیکن بد قسمتی سے ہمارے موجودہ ڈائریکٹر جنرل نے محکمہ کو نیلامی کی صبح تک پہنچایا ہے۔ اگر یہ حالت رہا تو محکمہ کے حالت بد سے بہتر ہو گی۔ لہندا وزیر اعلیٰ بلوچستان، کور کمانڈر بلوچستان اور تمام اداروں کے توجہ بذریعہ پر یس کا نفرنس دلانا چاہتے ہیں کہ محلے اور زمینداروں اور لیبر کے ان مجبوریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ ڈی جی صاحب سے تمام بلوچستان کا ریکارڈ منگوایا جائے اور وزیر اعلی انسپکشن ٹیم سے انکوائری کروائی جائے۔ موجودہ ڈائریکٹر جنرل کو فوری طور پر بر طرف کیا جائے۔ کرپشن کی مکمل تحقیقات کر کے ملوث افراد کو سزادی جائے۔ غریب کسانوں کے لیے سرکاری مشینری اور ڈیزل کی شفاف تقسیم یقینی بنائی جائے۔ ہم تمام معزز صحافی حضرات کا تہہ دل سے شکر یہ ادا کرتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں