بلوچستان اسٹیبلشمنٹ آف اسپیشل کورٹس قانون اور جعفر آباد میں نہروں پر غیر قانونی پائپ نصب کر کے پانی چوری کی روک تھام سے متعلق قرارداد منظور
کوئٹہ (این این آئی ) بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان اسٹیبلشمنٹ آف اسپیشل کورٹس ( اور سیز پاکستانیز پراپرٹی ) کا مسودہ قانون اور ضلع جعفر آباد میں نہروں پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی پائپ نصب کر کے پانی چوری کی روک تھام سے متعلق قرارداد منظور کرلی ۔ منگل کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری نوابزاد ہ زرین مگسی نے بلوچستان اسٹیبلشمنٹ آف اسپیشل کورٹس ( اور سیز پاکستانیز پراپرٹی ) کا مسودہ قانون پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا ۔اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری عبد المجید بادینی نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ضلع جعفر آباد میں نہروں پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی پائپ نصب کئے گئے ہیں۔ جن کے ذریعے پانی چوری کر کے ہزاروں کسانوں کو ان کے جائز حصے سے محروم کیا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں 5 لاکھ افراد پینے کے پانی سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ معزز عدالت عالیہ بلوچستان کے واضح احکامات کے باوجود محکمہ آبپاشی نے اس غیر قانونی عمل کے خاتمے کے لئے کوئی موثر اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ لاکھوں کسانوں کے معاشی قتل عام کے مترادف ہے۔ لہدایہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ جعفر آباد اور دیگر متاثرہ اضلاع میں نہروں سے تمام غیر قانونی نصب پائپ فوری طور پر بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کو یقینی بنائے۔ اور عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنے والے پانی کی چوری میں سہولت کاری کرنے والے آفسران و اہلکاران کے خلاف سخت تاریخی کا رروائی عمل میں لائی جائے۔ مزید براں پانی کی تقسیم کو شفاف بنانے کے لئے ہر کینال اور ڈسٹری بیوٹری پر ڈیجیٹل مانیٹر جنگ مسلم نصب کیا جائے اور اس کے ساتھ کسانوں کو ان کے حق آپ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے واٹر یوزر کمیٹی کو فعال کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جعفر آباد، صحبت پور ، نصیر آباد کے ٹیل پر واقعہ علاقوں میں لوگ پینے کے پانی سے بھی محروم ہیں اس وقت 329قانونی اور 414غیر قانونی پائپ نصب کیے گئے ہیں پانچ لاکھ لوگ براہ راست متاثر ہیں وزیراعلیٰ کی سربراہی میں نصیرآباد ڈویژن کے ارکان پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے جو اس حوالے سے مستقل حل نکالے۔ انہوں نے کہا کہ کچھی کینال پروجیکٹ میں منصوبے کو ڈال کر 5سے 7ارب میں مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔ مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ ماضی میں محکمہ آبپاشی نے نصیر آباد ڈویژن میں اس طرح کام نہیں کیا جیسے اسے کرنا چاہےے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ بار بار سیلاب آتا ہے اور تباہی ہوتی یہ صرف بہتر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن اب محکمے میں وقت کے ساتھ ساتھ بہتری آرہی ہے مسائل زیادہ ہیں پانی کی تقسیم بھی درست انداز میں نہیں ہورہی پانی اور پائپ لائنوں کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہونا چاہےے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیل کے علاقوں کو پانی نہ ملنا ذیادتی ہے صوبائی وزیر میر صادق عمرانی کی کوششوں سے محکمہ آبپاشی اور پی ڈی ایم اے نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے قبل ازوقت تیاریاں کیں ۔انہوں نے کہا کہ آج کل بیج بہت مہنگے ہیں اگر زمینداروں کو پانی نہ ملا تو ان کا پورا سال ضائع ہوگا ۔ صوبائی وزیر نوابزادہ طارق مگسی نے کہا کہ پانی کی کمی کے باعث لوگ اپنی زمینیں فروخت کر نے پر مجبور ہیں مگر کوئی خریدار نہیں ہے نشیبی علاقوں میں پانی کی فراہمی ہونی چاہےے ایک طرف 100فیصد جبکہ دوسری طرف صرف 10فیصد زمین پر کاشت ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ناانصافیاں ہوتی ہیں جنہیں کا تدارک کیا جائے ۔ پارلیمانی سیکرٹری محمد خان لہڑی نے کہا کہ ان کے حلقے میں پانچ ماہ سے پانی نہیں ہے ۔ صوبائی وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے غیر قانونی پائپ لائنوں کے حوالے سے 4آرڈر ہیں پٹ فیڈر اور ربیع کی بیرونی طرف کسی کو بھی پمپنگ مشین لگانے کی اجازت نہیں ہے محکمے نے کاروائی کی تو لوگ سڑکوں پر آجاتے ہیں 20سال سے پانی چوری ہورہا ہے ویراعلیٰ کو درخواست کی ہے اس پر کاروائی ہونی چاہےے ۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی تقسیم منصفانہ بنیادوں پر ہونی چاہےے ۔انہوں نے کہا کہ سیلاب کے خدشے کے پیش نظر 16مقامات پر کیمپ قائم کیے گئے ۔ پارلیمانی سیکرٹری محمد خان لہڑی نے کہا کہ سڑک بند کرنے والوں میں میں اکیلا نہیں تمام سیاسی جماعتیں شامل تھیں ایک کمیٹی بنائی جائے ہم اس حوالے سے تمام ریکارڈ فراہم کریں گے ۔ صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ وہ قرارداد کی حمایت کرتے ہیں طاقتور لوگ پانی چوری کرتے ہیں جس سے غریبوں کا نقصان ہوتا ہے ۔بعدازاں ایوان نے قرارداد منظور کرلی ۔


