بھارتی ریاست تامل ناڈو میں سیاسی جماعت کی ریلی میں بھگدڑ مچنے سے 39 افراد ہلاک، متعدد زخمی ہوگئے
نئی دہلی (آئی این پی) بھارتی ریاست تامل ناڈو میں اداکار و سیاستدان وجے کی انتخابی ریلی میں بھگدڑ مچنے سے ہلاکتوں کی تعداد 39 ہوگئی۔ واقعے کی ایف آئی آر ان کی پارٹی ٹی وی کے کے خلاف درج کرلی گئی۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس کی مدعیت میں ہونے والی رپورٹ میں پارٹی کے سینئر رہنما ﺅں بسی آنند، نرمل کمار اور وی پی متھیالاگین کے نام شامل ہیں۔ سینئر پولیس افسر وی سیلوراج نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹی وی کے پارٹی کو اصل میں 10 ہزار تک کے اجتماع کی اجازت دی گئی تھی، مگر وہاں موجود لوگوں کی تعداد اس سے دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئی تھی۔ اتوار کو تامل ناڈو میں ریلی کے دوران اس وقت بھگدڑ مچ گئی تھی جب اداکار وجے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ ایم کے سٹالن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک واقعہ میں 39 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 13 مرد، 17 خواتین، چار لڑکے اور پانچ لڑکیاں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 51 افراد جن میں 26 مرد اور 25 خواتین شامل ہیں، انتہائی نگہداشت میں زیر علاج ہیں۔ ہجوم میں اس وقت افراتفری مچی جب معروف اداکار وجے جلسے سے خطاب کر رہے تھے، بھگدڑ کی وجہ سے انہیں اپنی تقریر روکنا پڑی۔ 51 سالہ وجے نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں کرور کے اس ہولناک واقعے میں جان کی بازی ہارنے والے اپنے پیارے بھائیوں اور بہنوں کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتا ہوں۔ بھارتی اخبار کے مطابق بہت بڑی تعداد میں موجود لوگ اسٹیج کے قریب وجے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے رکاوٹیں عبور کرنے لگے، جس سے بھگدڑ مچ گئی۔وزیراعلی سٹالن نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے، جس کی سربراہی ایک ریٹائرڈ جج کریں گے۔انہوں نے متاثرہ خاندانوں کےلئے 10 لاکھ انڈین روپے امداد کا بھی اعلان کیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ میری دعائیں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔ میں اس کٹھن گھڑی میں ان کے لیے حوصلے اور ہمت کی دعا کرتا ہوں۔


