زبیر بلوچ روپوش نہیں ہر جگہ میسر تھے، قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں، ڈاکٹر مالک بلوچ کا اہلخانہ سے اظہار تعزیت
کوئٹہ(آن لائن)نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بی ایس او پجار کے سابق چیئرمین زبیر بلوچ کے گھر پر چھاپے و فائرنگ اور ان قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین زبیر بلوچ ایک سیاسی کارکن تھے اور سیاسی کارکن انسانی حقوق کا علمبردار ہوتا ہے۔ جبری گمشدگیاں ماورائے آئین و قانون اقدام ہے اور اس منفی اقدام کیخلاف بحیثیت سیاسی کارکن آواز بلند کرنا ان کی زمہ داری تھی۔یہ کوئی جرم نہیں اور نہ ہی آئین کے بر خلاف ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ شہید چیئرمین زبیر بلوچ بی ایس او پجار کے سابق چیئرمین تھے ان کے ساتھ گہرے روابط و رشتے تھے۔ انہوں نے طلبا سیاست کو علمی و فکری طور پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہید چیئرمین روپوش نہیں تھے وہ کورٹ کچہری اور ہر جگہ میسر تھے اگر وہ سیکورٹی فورسز کو مطلوب تھے ان کو قانون کے مطابق گرفتار کیا جاتا۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ بلوچستان کو سیکورٹی کے تناظر سے دیکھنے کے بجائے قومی اکائی کے حوالے سے دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وقت اور حالات مزید غلط پالیسیوں کی اجازت نہیں دیتے۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے شہید چیئرمین زبیر بلوچ کی شہادت پر ان کے بھائی اور خاندان کے دیگر افراد سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی دکھ کی اس گھڑی میں خاندان کے ساتھ ہے۔ اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان علی احمد لانگو مرکزی انسانی حقوق سیکرٹری چیرمین گہرام اسلم بلوچ ضلعی جنرل سیکرٹری ریاض زہری بھی ساتھ تھے۔


