بارڈر کی بندش کسی صورت قبول نہیں، بارڈر کاروبار کو آئینی و قانونی تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے، سینیٹر جان بلیدی

تربت( نمائندہ انتخاب) بارڈر کی بلاجواز بندش کسی صورت قبول نہیں۔ بغیر وجہ بارڈر بند کرکے عوام کے لیے مسائل پیدا نہ کیے جائیں۔ بلوچستان خصوصاً مکران کے عوام کا روزگار بارڈر کاروبار سے منسلک ہے۔ ہم بارڈر کمیٹی کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ضرورت پڑی تو بھرپور احتجاج کا فیصلہ بھی کریں گے۔یہ بات نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر جان محمد بلیدی، نیشنل پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری میر حمل بلوچ اور میر بجار بلوچ نے بارڈر کمیٹی کے وفد سے ملاقات میں کہی۔ وفد کی قیادت ملا سلیم، حاجی نیاز احمد شنمبے زئی، پزیر احمد اور مولانا محمد اکرم کر رہے تھے۔رہنماو¿ں نے کہا کہ بارڈر کاروبار کو آئینی و قانونی تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی وجہ کے بغیر بارڈر کو بار بار بند کرکے عوام کے روزگار کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے۔ سرحدی کاروبار یہاں کے عوام کا آئینی و قانونی حق ہے۔ دنیا بھر میں سرحدی علاقوں کی آبادیوں کو کاروبار کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بارڈر کاروبار کو قانونی تحفظ دے کر اس کے مسائل حل کیے جائیں اور غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عوام کی مشکلات کم ہوں۔ اگر بارڈر نہ کھولا گیا تو سینیٹ میں اس مسئلے پر بھرپور آواز اٹھائی جائے گی اور تمام متعلقہ اداروں اور ذمہ داران سے ملاقات بھی کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں