بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کی عدم تقرری، سرکاری ملازمتوں کے عمل میں تعطل سے نوجوان مایوسی سے دوچار
تربت (رپورٹ: زاہد حسین) بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری نے پڑھے لکھے نوجوانوں کو شدید مایوسی سے دوچار کر دیا ہے۔ صوبے میں گزشتہ پانچ مہینوں سے بلوچستان پبلک سروس کمیشن (بی پی ایس سی) کا چیئرمین مقرر نہ ہونے کے باعث سرکاری ملازمتوں کے عمل میں تعطل پیدا ہوگیا ہے، جس سے ہزاروں امیدواروں کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ ذرائع کے مطابق بی پی ایس سی صوبے کے پڑھے لکھے اور قابل نوجوانوں کے لیے امید کی واحد کرن تھا، جہاں اگرچہ سفارش کا عمل موجود تھا لیکن پھر بھی کم از کم 10 فیصد میں سے 4 فیصد غریب اور اہل نوجوان اپنی محنت و لگن کے بل بوتے پر ملازمت حاصل کر لیتے تھے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں وہ معمولی امید بھی دم توڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو گوارا نہیں کہ بلوچستان کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کے بل پر کمیشن کے ذریعے ملازمت حاصل کریں۔ پی پی پی کی موجودہ صوبائی حکومت نے بی پی ایس سی کو غیر فعال کر کے درحقیقت بلوچستان کے تعلیم یافتہ طبقے کو محدود کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہزاروں امیدواروں نے مختلف آسامیوں کے امتحانات کے لیے فیسیں جمع کرائی ہیں، مگر چیئرمین کی تقرری نہ ہونے کے باعث نہ امتحانات منعقد ہو رہے ہیں، نہ نتائج جاری کیے جا رہے ہیں۔ کئی امیدوار عمر کی حد (ایج) پار کر چکے ہیں، لیکن حکومت کی بےحسی برقرار ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں موجود عوامی نمائندے بھی اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق عوامی نمائندے دراصل نہیں چاہتے کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن فعال ہو، کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ سرکاری محکموں میں آسامیوں پر اپنے حامیوں اور ووٹروں کو سیاسی بنیادوں پر بھرتی کریں۔ بلوچستان کے نوجوانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بی پی ایس سی کے چیئرمین اور دیگر کلیدی عہدوں پر تقرریاں عمل میں لائی جائیں تاکہ شفاف اور میرٹ پر مبنی بھرتیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو اور نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جاسکے۔


