حیات بلو چ کا قتل، چاول کے محض چند دانے پوری دیگ کی حقیقت بتاتے ہیں، علی احمد کرد

کوئٹہ :معروف قانون دان و سپریم کورٹ کے وکیل علی احمد کرد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ تربت جیسے علاقے میں جہاں حالات اور واقعات کسی کے کنٹرول میں نہیں یہاں دوسرے ساتھی اہلکاروں کے سامنے جن کی خاموشی اور عدم مداخلت بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے، ایف سی کا ایک سپاہی جس ظالمانہ انداز میں حیات بلوچ کو قتل کرتا ہے اور ایک دو نہیں بلکہ پورے 8 گولیاں اس کی جسم میں اتارتا ہے اس بہیمانہ قتل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اسی طرح سکھر کے علاقے میں باپ کا اپنے گھر کے 11 افراد کو جس بے دردی سے قتل کرتا ہے اور ان میں ایک سال کا بچہ بھی شامل ہیں، جس کے گردن کو تیز دھار آلے سے ذبح کیا جاتا ہے یہ ہمارے معاشرے کی تصویر ہے جس طرح چاول کی دیگ کے کچھ دانے محض پوری دیگ کی حقیقت کو ظاہر کردیتے ہیں بالکل اسی طرح یہ دو واقعات ہم سب کیلئے سامنے نظر آنے والے خطرے کی گھنٹی کی آواز ہے میں اپنی زندگی کے تمام تر احتجاجی سیاست کے تجربات کی بنیاد پر یہ بات سامنے لا رہا ہوں کہ یہ دو افراد کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں جس کی بہت بڑی اکثریت بھوک، افلاس بے روز گاری ہر طرح کی ظلم بے انصافی ذہنی و قلبی طور پر عدم استحکام کا شکار ہے یہ سارے واقعات مل کر کروڑوں لوگوں کی نفسیات پر جو اثرات ڈال رہا ہے اسی کا نتیجہ حیات بلوچ کا قتل اور سکھر میں باپ کے ہاتھوں بچوں کا قتل ہے اگر آج بھی ہم نے سنجیدگی سے ان حالات کو سامنے رکھ کر معاشرے کو مثبت انداز میں چلانے کی کوشش نہیں کی تو آخر میں صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ انقلاب فرانس کے وقت لوگوں کے ہاتھ خالی تھے جبکہ آج ہمارے معاشرے میں ہر گھر میں اسلحہ کا انبار لگا ہوا ہے۔اس لحاظ سے ہمیں سوچنا اور سمجھنا ہوگا اور حالات کو بہتری کی طرف لے جانے کی کوشش کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں