ماما قدیر بلوچ کا انتقال قومی سانحہ ہے، ان کی جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، بی ایس او

کوئٹہ (پ ر) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں ماما قدیر بلوچ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک قومی سانحہ قرار دیا ہے۔ ماما قدیر بلوچ محض ایک فرد نہیں تھے بلکہ وہ ایک عہد، ایک مسلسل جدوجہد اور ان ہزاروں خاندانوں کی امید تھے جن کے پیارے جبری گمشدگی کا شکار بنائے گئے۔ مرکزی ترجمان نے کہا کہ ماما قدیر بلوچ صبر و استقامت کی وہ مجسم تصویر تھے جنہوں نے ذاتی المیے کو اجتماعی شعور میں بدل دیا۔ وہ ان گنت مظلوم خاندانوں کے لیے خاموشوں کے وکیل بن کر سامنے آئے اور پ±رامن جدوجہد کے ذریعے ریاستی جبر اور ناانصافی کو بے نقاب کرتے رہے۔ مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں ماما قدیر بلوچ کی جدوجہد ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے طویل احتجاجی مارچ، پ±رامن مزاحمت اور غیر متزلزل عزم آنے والی نسلوں کے لیے شعور، حوصلے اور استقامت کا ذریعہ رہیں گے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ سچائی اور اخلاقی برتری کے ساتھ کی جانے والی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ بی ایس او سمجھتی ہے کہ ماما قدیر بلوچ جیسے کردار قوموں کے اجتماعی ضمیر کی نمائندگی کرتے ہیں، اور ان کی جدائی بلوچستان کے سماجی و سیاسی شعور کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کا نام لاپتہ افراد کی تحریک کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اپنے تمام کارکنان اور ذمہ داران کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ ماما قدیر بلوچ کی آخری رسومات میں شرکت کریں اور ان کے مشن کی تکمیل کے عزم کی تجدید کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں