کوئٹہ جیل میں قیدیوں کی سکریننگ کے دوران 10قیدیوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ پازیٹو آئے ہیں، سپرنٹنڈنٹ
کوئٹہ (آن لائن) سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ سید حمید اللہ نے کہا ہے کہ کوئٹہ جیل میں قید 1200قیدیوں کی سکریننگ کی گئی جس میں 10 قیدیوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ پازیٹو آئے ہیں ہماری کوشش ہے کہ نئے آنے والے قیدیوں کو پہلے الگ بیرک میں رکھا اور بعد میں ان کے میڈیکل ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد انہیں بیرکس میں منتقل کیا جاتا ہے اگرکوئی قیدی کسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہے تو اسے الگ رکھنے کے انتظامات یقینی بنائے جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کوئٹہ کا کہنا تھا کہ کوئٹہ جیل میں قید قیدیوں کی سکریننگ اور مختلف بیماریوں کے حوالے سے غیر سرکاری تنظیم دوپاسی فاﺅنڈیشن اور صوبائی محکمہ ٹی بی کنٹرول کے زیر اہتمام کیمپ لگاکر تمام قیدیوں کے ٹیسٹ اور سکریننگ کی گئی کیونکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی جانب سے بلوچستان کی جیلوں میں قید قیدیوں کے ٹیسٹ اور سکریننگ کے واضح احکامات جاری کئے گئے تھے جس کا مقصد قیدیوں میں بیماریوں کی جانچ کرکے انہیں علاج کی سہولت مہیا کرنی تھی انہوں نے بتایا کہ 3000 قیدیوں میں سے 10 قیدیوں کے ایچ آئی وی ایڈز کے ٹیسٹ پازیٹو آئے ہیں جن کا ترجیحی بنیادوں پر حل شروع کردیا گیا ہے اس کے علاوہ 4 سے 5 فیصد قیدیوں میں ہیپاٹائٹس اور دیگر امراض کی تشخیص ہوئی جنہیں علاج کی سہولت دی گئی ہے انہوں نے بتایا کہ جیلوں میں آنے والے نئے قیدیوں کو پہلے مرحلے میں الگ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کا میڈیکل چیک اپ اور تمام ٹیسٹ کئے جاتے ہیں اور رپورٹ آنے کے بعد اگر ان میں کوئی ایسی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے جو دوسرے قیدیوں تک منتقل ہوسکتی ہے تو اس قیدی کو الگ بیرک میں رکھا جاتا ہے اور اس کا علاج بھی شروع کردیا جاتا ہے۔ کیونکہ تمام ریکارڈ مکمل کرنے کے بعد انہیں بیرکس میں منتقل کرتے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹی بی کے مرض میں بھی مبتلا قیدی ہیں ہمارے پاس 100 قیدتنہائی کے قیدیوں کے لئے الگ بیرکس موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہسپتال میں 3 سے 4 وارڈز بھی موجود ہیں جہاں پر 30 سے 40 قیدیوں کو رکھنے کی سہولت موجود ہے اس وقت ہمارے پاس تقریباً 9 سے 10 قیدی ہسپتال وارڈ میں زیر علاج ہیں انہوں نے بتایا کہ ایڈز سمیت دیگربیماریوں میں مبتلا قیدیوں کا سینئر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ان کی ٹیم باقاعدگی سے معائنہ کرتی ہے جس طرح تمام شعبوں میں ڈاکٹرز اور عملہ تعینات ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جیل میں تقریباً 10 سے 15 خواتین قیدی بھی قید ہیں ان کے لئے خواتین ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف موجود ہے انہوں نے بتایا کہ ہمیں صوبائی حکومت کی جانب سے ایم ایس ڈی کی جانب سے ادویات ملتی ہے اگر کمی بیشی ہو تو ہم غیر سرکاری تنظیموں ، این جی اوز اور اپنی مدد آپ سمیت مخیر حضرات کے ذریعے یہ کمی اور ضروریات پوری کرتے ہیں۔


